اصحاب احمد (جلد 5) — Page 589
۵۹۵ ترقی کے لئے کفایت بے حد ضروری ہے۔(مؤلف) خلع کی درخواست کن کن حالات میں ہو سکتی ہے استفتاء- ا - عورت خلع کی درخواست کن کن حالات میں کر سکتی ہے؟ آیا عورت جب چاہے اپنے حق مہر کا مطالبہ اپنے خاوند سے کر سکتی ہے۔یا حق مہر کی ادائیگی خاوند کی مرضی پر منحصر ہے یعنی جب چاہے اور جس طرح چاہے ادا کر دے؟ ۳- اگر عورت خاوند سے حق مہر کی یکمشت ادائیگی کا مطالبہ کرے اور خاوند اس کے مطالبہ کو پورا نہ کر سکے تو اس کے معاوضہ میں عورت خاوند سے کوئی اور شرط منوا سکتی ہے۔جس سے حق مہر نہ ادا ہونے کی تلافی ہو جائے۔مثلاً ایک عورت ملازم ہے اس کا خاوند اس سے ملازمت ترک کروانا چاہتا ہے تو کیا عورت یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ جب تک میرا حق مہر ادا نہ ہوگا میں ملازمت ترک نہیں کروں گی۔-۴- آیا عورت اپنے خاوند سے رہائش کے لئے علیحدہ مکان کا مطالبہ کر سکتی ہے۔اور آیا خاوند کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے ایسے مطالبہ کو پورا کرے؟ فتوی: 1- اس کا فتوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔فتویٰ تو کسی خاص اور معین صورت میں ہو سکتا ہے۔اس کے متعلق تو فقہ کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت سوائے اس کے کہ کوئی عورت مسئلے جانتی ہو۔جب خاوند سے علیحدگی چاہتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وہ وجبہ بیان کر کے ضلع کا مطالبہ کرتی تھی۔اگر وہ وجہ ایسی ہوتی کہ جس پر خلع ضرور ہونا چاہئے اس پر خلع کا حکم فرما دیتے۔-۲ ان مسائل کو قاضی کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔درخواست کنندہ کے لئے ضروری نہیں ہے۔کر سکتی ہے بشرطیکہ اگر ادائیگی کی کوئی تاریخ معین نہ کی ہو۔اگر معین ہو تو پھر معاہدہ کے خلاف مطالبہ نہیں کر سکتی۔اگر مہر مطلق ہے تو جب چاہے مطالبہ کر سکتی ہے۔کیونکہ مہر خاوند کے ذمہ ایک قرض ہے اور قرض خواہ جب چاہے اپنے مقروض سے قرض کے متعلق مطالبہ کر سکتا ہے۔-۳- یہ تراضی سفریقین سے ہوتا ہے۔شریعت مجبور نہیں کرتی کہ عورت خاوند سے کوئی شرط منوائے۔خاوند کی مرضی ہے کہ وہ شرط کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔شریعت اتنا کہتی ہے کہ عورت کا حق مہر ادا ہونا چاہئے۔۴۔عورت ایسا مطالبہ کر سکتی ہے۔نوٹ:۔علیحدہ مکان سے مراد خاوند کے رشتہ داروں سے علیحدہ رہنا ہے۔(۳۸-۰۸-۰۳)