اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 590 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 590

۵۹۶ ۲۳ - کیا منگنی نکاح کی قائم مقام ہے استفتاء۔کیا منگنی نکاح کی قائم مقام ہے یا نہیں اور منگنی کی حالت میں مسلمان انسان اس عورت سے محبت کر سکتا ہے۔فتویٰ منگنی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تو یوں ہوتی ہے کہ جو مختلف قوموں میں رواج ہیں جن کو منگنی کہتے ہیں جب وہ رواج پورا کر دیا تو منگنی ہوگئی۔جیسے ہمارے ملک میں خصوصاً ہمارے خاندان میں یہ رواج ہے۔جب ایک آدمی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوتو وہ برادری میں لڑکی پیدا ہونے کا منتظر رہتا ہے جب کسی پسندیدہ گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہو تو اس کو کپڑاٹو پی یعنی بچے کے کپڑے ان کے گھر میں بھیج دیتے ہیں۔اگر وہ قبول کریں تو منگنی ہو گئی۔اب اس قسم کی منگنی کوئی نکاح نہیں اور نہ اس کے ساتھ محبت جائز ہے۔البتہ دوسری قسم کی جومنگنی ہے وہ یوں بھی ہوتی ہے کہ لڑکے والے مرد یا عورت لڑکی والے کے پاس جاتے ہیں اور لڑکی والوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ یہ منگنی کے واسطے آیا ہے۔وہ برادریوں کے آدمیوں کو جمع کرتا ہے یا اور لوگ جو مناسب ہوں ان کے سامنے لڑکے والا لڑکی والوں سے زبانی درخواست کرتا ہے کہ فلاں کو تم اپنا بیٹا بنا لو یا یہ کہ فلاں کے لئے تم فلاں لڑکی ہمیں دے دو یا اس کی مانند اور الفاظ جو اس پر دال ہوتے ہیں کہ یہ فلاں لڑکی کے لئے فلاں لڑکے کے واسطے رشتہ مانگتا ہے۔اور حاضرین بھی اس کی اس بات کو سنتے ہیں تو لڑکی والا کوئی ایسے الفاظ بول دیتا ہے جو اس بات پر دال ہوتے ہیں کہ وہ لڑکے والے کی درخواست کو منظور کرتا ہے۔اور اس کے الفاظ کو بھی حاضرین سنتے ہیں اس کے بعد ان میں جو رواج ہوتا ہے۔فاتحہ وغیرہ یا مٹھائی یا کپڑے و دیگر اس رسم کو ختم کر دیتا ہے تو یہ منگنی یقیناً نکاح ہے اب رہا ایسی منگنی جو کہ نکاح ہے اس کے بعد قبل اس کے کہ وہ رخصت نہ ہو۔جس کو بیاہ یا شادی کہتے ہیں۔اگر مرد اس لڑکی سے محبت کرے تو اس کو زنا نہیں کہتے۔مگر اس رواج کے جو کہ ساری عمر کا سنت مؤکدہ ہے خلاف ورزی کہیں گے۔کیونکہ قرآن بھی یہ حکم دیتا ہے کہ وأمر بالعرف کہ جو قوموں کے صحیح رواج ہیں ان کو قائم رکھو اور اس پر عمل کرو۔اور یہ سب امت محمدیہ خواہ پہلے ہوں یا بعد کے مشرقی ہوں یا مغربی ، شمالی ہوں یا جنوبی۔اوپر کے ہوں یا نیچے کے ، خواہ کسی قوم کے بھی ہوں اور ان کے رواج خواہ کس قدر مختلف ہوں۔جیسا کہ دولہا برات لے کر لڑکی والوں کے پاس نہیں جاتا۔بلکہ لڑ کی کوعورتیں ساتھ لے کر مرد کے پاس پہنچا آتی ہیں۔بخلاف عجمیوں کے ان میں مرد برات لے کر کے لڑکی کو لینے کے لئے جاتا ہے اور پھر ساتھ لے کر اپنے گھر آتا تھا لیکن اس بات پر سب کا عمل ہے کہ لڑکی کو نکاح کے بعد رشتہ دار مرد کے پاس پہنچاتے اور حوالے کرتے ہیں۔اس کے بعد مرد اس کے ساتھ محبت کرتا ہے۔تو جو شخص خلاف کرتا ہے۔محض نکاح ہو گیا ہوا ہے اور اہل اسلام کے