اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 588 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 588

۵۹۴ فتویٰ یہ غلط ہے دعوت دے سکتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب اہل حدیث میں سے آئے تھے اور ان کا یہی مذہب تھا۔وہ دعوت نہیں دیتے تھے لیکن یہاں پر ایک شادی ہوئی اس میں با قاعدہ اس آدمی نے دعوت کے رقعے بھیجے اور سب آدمیوں نے دستخط بھی کئے اور رقعے بھی لے لئے جن میں میں خود بھی تھا۔کیونکہ میرا اپنا یہ اعتقاد تھا کہ یہ بدعت نہیں۔جب ہم شام کے وقت کھانا کھانے کے لئے پہنچے اور کھانا لانا شروع ہوا تو حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی اس میں مدعو تھے۔انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے ہمیں کھانا نہیں کھانا چاہئے تو داعی نے جواباً کہا پھر دعوت کا خرچہ مجھے دے دیں۔کیونکہ میں نے باقاعدہ آپ کے پاس دعوت نامے بھیجے جس پر آپ نے دستخط کئے اور وصول کئے جس کی وجہ سے میں نے اس کو جائز خرچ کیا۔آخر مجھ سے بوجہ مفتی ہونے کے پوچھا گیا کہ آپ بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں تو میں نے ان کو اس پر یہ جواب دیا۔(کہ) اگر میرا اپنا علم پوچھتے ہو تو بتا سکتا ہوں۔مگر خلیفہ کے فتویٰ کے بعد کسی دوسرے کا فتویٰ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے میرا علم پوچھا جس پر میں نے بتایا کہ بدعت اس کو کہتے ہیں جس کو دینی کام اور کار ثواب سمجھ کر کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے اس امر کی نسبت ثبوت نہ ملتا ہو۔اس کو بدعت کہتے ہیں۔اور وہ ممنوع ہو جاتی ہے۔اور شریعت میں ہر نئے کام کو بدعت نہیں کہتے اور نہ وہ ممنوع ہے۔حدیث میں آتا ہے اور یہی بدعت کی تعریف ہے۔۔کہ جو ہمارے دین میں کوئی نئی بات پیدا کرے۔جو اس میں سے نہیں وہ متروک ہے۔چونکہ یہ دعوت کوئی ثواب سمجھ کر نہیں کی جاتی۔کوئی اس کو فرض یا سنت نہیں سمجھتا۔یہ تو ایک عرف ہے۔اور قرآن مجید میں فرمایا ہے و امر بالعرف۔ہاں عرف ممنوع ہے جو کہ شریعت کے خلاف ہو۔اس کے بعد کچھ تھوڑے دن گزرے تو حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی لڑکی کی شادی ہوئی۔اس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور چند اور دوست بھی مدعو تھے تو حافظ صاحب نے میٹھی کچھی لسی پیش کی تو حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب میں تو نہیں پی سکتا۔یہ اس واسطے نہیں کہ میں اس کو نا جائز سمجھتا ہوں بے شک حضرت مولوی صاحب کی وجہ سے جو کہ میرے استاد بھی تھے میں بھی یہی کہا کرتا تھا کہ لڑکی والوں کی طرف سے جائز نہیں مگر میں نے تحقیق کی ہے اور مجھے بعض موقعوں پر شہادتوں سے معلوم ہوا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دعوتوں میں شریک ہوئے ہیں اور واقعہ بھی یہی ہے کہ یہ بدعت نہیں ہوسکتی۔کیونکہ یہ کوئی دینی امر نہیں۔بلکہ میں اس لئے نہیں پیتا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں دودھ والی چیز استعمال نہیں کرتا۔اور اس وقت مجھے زکام بھی ہے۔چنانچہ حضور کے حکم سے باقی تمام احباب نے اس کو پیا باقی یہاں پر ایسی عام دعوتیں ہوتی رہتی ہیں۔( ۲۸-۷-۲۰) نوٹ : جہاں تک خاکسار کو علم ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس خاطر کافی عرصہ سے بعض ایسی ہدایات جاری ہوئی ہیں تا کہ ایسے مواقع پر اسراف نہ ہونے لگے۔اس وقت جماعتی ترقی اور افراد جماعت کی