اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 545 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 545

۵۵۱ آپ قسمیہ طور پر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور سے رویا سنا تو معا مجھے یقین ہوا کہ یہ خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق ہے بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب کے رویہ نے اس امر کی تصدیق کردی۔مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق ان کا رویہ غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لئے حضرت خلیفتہ اسیح اول سے اجازت لینا اور انگلستان میں ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار جیسے معاند کی امامت میں نماز پڑھنا اور ایک ایڈیٹر سے ریویو آف ریلیجنز کے متعلق سمجھوتہ کرنا کہ اس میں حضرت مسیح موعود کا ذکر نہ ہوگا۔سب اس الہام کی تائید کرتے ہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کا مرض کرم دین کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ گورداسپور گئے۔ان دنوں حضور کے سامنے کھانا میں پیش کرتا تھا۔حضور نے فرمایا کہ میں نے تین وقت سے کھانا نہیں کھایا۔اگر اچھی قسم کے آم مل جائیں تو شاید ان سے کھانا کھا سکوں۔میں اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مرحوم بازار گئے۔ہمیں معلوم تھا کہ حضور ایسا آم پسند کرتے ہیں جس میں زیادہ ترشی نہ ہو اور اس کا رس پتلا ہو گا ڑھا نہ ہو۔بازار سے ایسے آم نہ ملے۔پھر ہم سارے باغوں میں گئے صرف ایک باغ میں ایک درخت تھا جس پر آٹھ دانے تھے۔وہ تمام ہم نے خرید لئے اور واپس آئے اور اس وقت صبح کے کھانے میں پیش کئے۔حضور نے آم پسند کئے اور صرف ایک کھایا اور کھانا بھی اچھی طرح کھا لیا۔ہم نے ذکر کیا کہ صرف آٹھ ہی دانے تھے جو ہم نے لے لئے ہیں۔حضور نے خوشی کا اظہار کیا۔حضور او پر جہاں مقیم تھے وہاں دارالامان کی ایک الماری میں باقی سات دانے میاں شادی خان صاحب نے رکھوادئے۔جو ایسی چیزوں کے محافظ ہوتے تھے۔چونکہ مجھے بقیہ حاشیہ: - مدرسہ تعلیم الاسلام کے چلانے کے لئے ایک کمیٹی مولوی محمد علی صاحب نے بنائی تھی جس کے ممبر وہ خود اور مولوی عبدالکریم صاحب تھے اور صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب تھے یہ کمیٹی ایک قسم کا وبال تھی۔اگر کوئی شکایت ہوتی تو اس کے کام حضرت مولوی صاحب کی طرف منسوب ہوتے۔اس دن بیدانہ کھانے کے لئے حضور بیٹھے تو میں نے عرض کیا کہ مدرسہ کے متعلق اگر کوئی فروگزاشت ہو تو بعض لوگ حضرت مولوی صاحب کی مذمت کرنے لگتے ہیں سننے والا ان کا معتقد ہوتا ہے اور اسے اس سے صدمہ پہنچتا ہے۔حضور کا ارادہ تھا کہ اس امر کی تحقیقات کرائیں لیکن پھر حضور نے اس کمیٹی کی جگہ نواب محمد علی خان صاحب کو مقرر کر دیا۔