اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 546 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 546

۵۵۲ تجربہ تھا کہ خواجہ کمال الدین صاحب جب آتے ہیں تو ایک ایک الماری کی تلاشی لیتے ہیں۔اس لئے میں نے قفل بھی لگوا دیا۔پچھلے پہر میں نے دیکھا کہ قفل نہیں۔پوچھنے پر میاں شادی خان صاحب نے بتایا کہ خواجہ صاحب آئے تھے۔اور الماریوں کو دیکھنے لگے قفل دیکھ کر سمجھے کہ میں نے لگایا ہے اور مجھ سے چابی کا تقاضا کیا لیکن میں تو قف کیا اور انہیں بتایا کہ یہاں حضور کے لئے آم رکھے ہیں اور حضور نے انہیں بہت پسند کیا ہے لیکن وہ سختی سے پیش آئے اور میں نے انہیں چابی دے دی۔انہوں نے ان موٹے موٹے آموں میں سے ایک چوس لیا اور ٹوکری بند کر کے بقیہ آم اپنی بیوی کے نام پارسل کر دئے۔رات کو حضور کے سامنے کھانا رکھا گیا اور آم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ادھر ادھر ہو گئے۔حضور نے آم طلب کئے لیکن ہم خاموش رہے اور حضور نے کھانا چھوڑ دیا اور نہ کھایا۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب گوڑیا نوی اپنے وطن کے آم حضور کے لئے بھجوایا کرتے تھے۔اگلے روز ان کی طرف سے گوڑ گاؤں سے کچھ آم آئے۔اور ان کا خط بھی آیا کہ اس دفعہ آم کم ہوئے ہیں اور اس جگہ کے جو آم حضور کو پسند ہیں ان کے یہی چند دانے ہیں جو میں بھیج رہا ہوں یہ پیل والے آم تھے۔میاں شادی خان صاحب نے ان آموں کو بھی الماری میں رکھا اور قفل لگا دیا لیکن خواجہ صاحب نے یہ تالا توڑ کر نکال لئے۔سی روایت خاکسار نے لکھی تھی اور آپ سے زبانی بھی سنی تھی۔معمولی تالا ہوگا اور ایسے تالے معمولی زور آزمائی سے کھل جاتے ہیں یہ کہنا مقصود نہیں کہ قفل شکنی کی۔بلکہ یہ بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی پرواہ نہ کی۔اور یہ امر کسی مخفی مرض پر دلالت کرتا تھا جو بالآخر خلافت ثانیہ میں ظاہر ہو گیا لیکن اس وقت کینسر کی طرح لا علاج ہو چکا تھا اور روحانی موت کا باعث ہوا۔ا خویم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق امام مسجد لندن اس روایت کا ذکر کر کے بتاتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت اقدس کم خور اور از حد نازک مزاج تھے اور آم کے ساتھ جب حضور نے روٹی تناول فرمائی تو سب احباب بہت خوش ہوئے۔چوہدری صاحب ذکر کرتے ہیں کہ آپ سے یہ واقعہ سن کر میری طبیعت میں بڑا بیچ وتاب پیدا ہوا۔میں نے عرض کیا کہ آپ نے کیوں خواجہ کمال الدین صاحب کو ایسا کرنے دیا کیوں نہ روکا حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔میاں ! اس وقت مولویوں کو پوچھتا کون تھا ؟ ان کا زور تھا۔یہ تو خلافت ثانیہ میں آکر ان کی قدر ہوئی۔حضرت مولوی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ علماء سلسلہ کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے اور بالآخر اپنے کبر و نخوت کا شکار ہو کر خلافت اور جماعت سے منقطع ہو گئے۔