اصحاب احمد (جلد 5) — Page 544
۵۵۰ پوچھا کہ یہ کیا ہوا اس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے۔۴۶۴ بقیہ حاشیہ: میرے نزدیک اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام انبیاء میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی ایسے نبی تھے کہ جنہوں نے ایک کمیٹی مقرر کی اور اس کے سرکردہ ممبر قوم میں فتنہ کا موجب ہوئے۔حضور کے الہام کا بھی یہی مفہوم ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو دریا کے پارلاتے ہیں اور ان کے سامنے فرعون جیسا دشمن غرق ہوتا ہے لیکن سامری جو کہ سر کردہ ممبر تھا اس امر کو بھانپ چکا ہے کہ وہ تبھی بڑا بن سکتا ہے کہ قوم کی توجہ کسی اور ایسے امر پر مرتکز کر دے کہ جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ سے ان کی توجہ ہٹ جائے۔چنانچہ اس کی فتنہ انگیزی کا نتیجہ تھا کہ فَاتَوُا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَّهُمْ قَالُوا يَمُوسَى اجْعَلُ لَنَا إِلَهَا كَمَا لَهُمُ الهَة - - انہوں نے کہا کہ جیسے ان خوش نصیبوں کے پاس بہت سے بت ہیں۔ہمیں ایک ہی بنادیں۔جب قوم جنگل میں رہنے لگی تو سامری نے یہ کہلوا دیا کہ ہمیں کتاب دی جائے اور اس طرح حضرت موسی قوم سے غیر حاضر ہو گئے۔چنانچہ حضرت موسیٰ نے دعا کی اور آپ کو تین دن کے لئے پہاڑ پر خلوت میں جانے کا حکم ہوا۔مصر سے نکلتے ہوئے عید منانے کے لئے بنی اسرائیل نے مصریوں سے زیورات عاریتہ لئے تھے۔چونکہ اب ان کے استعمال کی اجازت نہ تھی۔اس لئے وہ تمام ایک جگہ سامری کی تحویل میں رکھ دیئے گئے تھے۔اب اسے موقعہ ملا اور اس نے ایک بچھڑا بنایا جو آواز بھی نکالتا تھا۔ادھر حضرت موسی کو اللہ تعالیٰ نے مزید دس دن ٹھہرنے کا حکم دیا۔آپ کے ساتھ ستر نقباء بھی پہاڑ پر گئے تھے لیکن حضرت موسی“ ان سے الگ تھے۔اور آپ کو ان کے پاس جانے کی اور ان کو آپ کے پاس یا نیچے قوم کے پاس جانے کی اجازت نہ تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب حضرت موسی با وجود تمیں دن گزرنے کے نہ آئے اور مذکورہ صورت کی وجہ سے دس دن کے مزید توقف کی اطلاع بھی نہیں مل سکتی تھی۔اس موقع کو سامری نے از بس غنیمت سمجھ کر بچھڑا بنی اسرائیل کے سامنے لا کھڑا کیا اور کہا کہ هذَا الهُكُمْ وَإِلهُ مُوسى فَنَسِی - ۲۸ اور اس طرح اس کو قوم کو گمراہ کرنے کا موقع مل گیا۔سامری اور اس کے ساتھیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَا لُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا - ۴۹ اور ایسے ہی سرکردہ لوگوں میں سے قارون تھا جو تباہ ہوا۔“ حضرت مولوی صاحب کا یہ مطلب نہیں کہ کمیٹی یا انجمن بنانا نا پسندیدہ ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت موسی“ والی کمیٹی یا انجمن کی طرح یہاں بھی انجمن کے بعض افراد اپنی اور دوسروں کی روحانی تباہی کا موجب ہوں گے۔اور یہ بات سر کردہ غیر مبایعین کے متعلق تھی جو انجمن کے کرتا دھرتا تھے اور یہ پوری ہوچکی ہے۔