اصحاب احمد (جلد 5) — Page 492
۴۹۷ ہوا کہ ایک استاد صاحب نے حضور کی خدمت میں حضرت مولوی صاحب کے متعلق کچھ عرض کرتے ہوئے صرف ”مولوی صاحب“ کے الفاظ کہے۔حضور نے فرمایا کون ”مولوی صاحب“؟ مولوی تو سب ہی ہیں۔ان استاد صاحب نے فوراً عرض کیا کہ حضرت مولوی صاحب۔“ ہمارے واقفین کے گروپ کو کسی جامعہ میں داخل نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کی قابلیتوں اور آئندہ ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر نصاب بنائے جاتے رہے۔حضور کا منشاء شروع میں زیادہ لمبی تعلیم دلانے کا نہ تھا بلکہ جلد بیرونی ممالک میں بھجوانے کا تھا۔چنانچہ کئی ایک کے پاسپورٹ تیار کروالئے گئے تھے کہ اچانک دوسری عالم گیر جنگ شروع ہوگئی اب حضور نے مناسب سمجھا کہ ان واقفین کی مختلف لائنوں میں تربیت کی جائے۔حضور نے حضرت مولوی صاحب کے ساتھ مشورہ سے مختلف لائنیں مثلاً حدیث ، فقہ، تفسیر ، تصوف مقرر فرما دیں اور فرمایا کہ طلباء کو کہیں کہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنی اپنی لائن منتخب کر لے۔بایں ہمہ حضرت مولوی صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مشتاق احمد ( راقم الحروف) کے لئے فقہ تجویز کرنا مناسب ہوگا۔حضور فرما ئیں تو ان کو فقہ کی تعلیم پر لگا دیا جائے۔اس میں انہیں دلچسپی ہے۔حضور یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور جو حکم طلباء کے لئے مضامین انتخاب کرنے کا آیا اس میں میرے لئے فقہ کا مضمون مقرر کیا ہوا تھا۔حضور نے حضرت مولوی صاحب کی رائے کو حالانکہ آپ میرے فقہ کے استاد نہ تھے اس قدر اہمیت دی کہ میرے بعض بزرگوں سے بھی اس کا اظہار فرمایا تعیین میرے لئے قابل فخر و مسرت تھی۔اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔مسجد مبارک میں ایک روز حضور نے عصر کی نماز پڑھا کر رخ بدلا اور حضرت مولوی صاحب کی طرف جو عین حضور کے پیچھے ہوتے تھے متوجہ ہو کے فرمایا۔مولوی صاحب! ان واقفین کواب جلد باہر بھجوانا چاہئے۔اس لئے موجودہ نصاب کی بجائے مختصر نصاب تجویز کیا جائے اور حضور نے فوراً کا غذ قلم لے کر ہر مضمون کی جو کتا ہیں ضروری سمجھیں تحریر فرما دیں۔اور یہ نیا نصاب حضرت مولوی صاحب کے سپر د فرمایا اور آپ نے اس کے مطابق واقفین کو تعلیم دلا دی اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اطال اللہ بقاءه واطلع شموس طالعہ کی توقعات کے مطابق یہ مجاہدین باہر جانا شروع ہو گئے۔میں ابتداء میں ۱۹۴۵ء میں جانے والوں میں سے تھا۔سارے قادیان کے علاوہ خود حضور اور حضرت مولوی صاحب ریلوے اسٹیشن قادیان پر الوداع کہنے کے لئے تشریف لائے اور ہار پہنا کر بغلگیر ہو کر اور لمبی دعا کے بعد رخصت کیا۔یہ شیریں یا دسرمایۂ حیات ہے معلوم نہ تھا کہ حضرت مولوی صاحب سے پھر اس دنیا میں ملاقات ہی نہ ہوگی۔آپ مسجد مبارک کی زینت تھے۔آپ نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوتے۔مہمان احباب آتے۔مصافحہ کرتے اور وہ اور قادیان کے احباب بھی اس وقت آپ سے علمی اور روحانی استفادہ کرتے۔ایک دن حضور