اصحاب احمد (جلد 5) — Page 491
۴۹۶ ایک واقف زندگی رفیق کے بارے میں کوئی ایسی بات کی جو گویا اس کی ذہانت پر طنز تھی۔آپ نے فرمایا دیکھو میاں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔"أهل الجنة بلة “ یعنی جنتی سادہ لوح ہوتے ہیں۔طنز سے جو بعض چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی ایک دم غائب ہو گئی اور اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی کہ کہیں ایک جنتی کی دل شکنی نہ ہو گئی ہو۔آپ سے اللہ تعالیٰ نے جو عظیم الشان خدمات لیں۔ان میں سب سے عظیم الشان تاریخی خدمت مباحثہ مد ہے۔آپ نے کئی دفعہ یہ واقعہ سنایا کہ مباحثہ سے واپسی پر میں اپنے گھر میں تھا کہ کسی نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا دیکھا تو حضرت میاں محموداحمد صاحب (خلیفہ الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) تھے۔آپ نے مجھ سے فرمایا۔مولوی صاحب! مبارک ہو۔آپ تاریخی شخصیت ہو گئے۔حضرت مسیح موعود نے آپ کے متعلق ایک اعجازی قصیدہ رقم فرمایا ہے۔ہمارے عرصہ تلمذ میں آپ کو احباب ” حضرت مولوی صاحب“ کہتے تھے لیکن آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود مجھے شاہ صاحب کے الفاظ سے خطاب فرماتے تھے۔فرماتے تھے ایک دن حضرت مسیح موعود نے فرمایا شاہ صاحب امرت سر سے ایک دری لے آئیے اور جیب میں ہاتھ ڈالا اور روپے بغیر گنے میرے ہاتھ میں رکھ دے۔یہ تقریبادری کی ہی قیمت تھی۔میں خرید کر لایا تو حساب عرض کرنے لگا۔حضور نے فرمایا ہم اپنے دوستوں سے حساب نہیں کیا کرتے۔آپ کو خود آل رسول تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کا احترام بہت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ میرے شاگرد تھے۔اور قریباً سب لڑ کے فرش پر بیٹھا کرتے اور استاد کے لئے کرسی ہوتی لیکن یہ جماعت میں ہوتے تو میں احتراماً کرسی پر نہ بیٹھتا کھڑا ہو کر ہی پڑھاتا۔فرمایا۔حضرت صاحب ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) بچپن میں مجھے اپنی خواہیں سنایا کرتے تھے آپ کی بہت سی خواہیں ایسی ہوتیں کہ فوج ہے اور آپ اس کی قیادت کر رہے ہیں۔فرمایا حضرت صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ مجلس میں بات کر رہے ہوں تو کبھی کوئی مخاطب ہوتا ہے اور کبھی کوئی لیکن حضور اپنی کوئی خواب سنانے لگیں تو میری طرف رخ پھیر لیتے ہیں اور مجھے مخاطب کر کے سناتے ہیں۔اللہ ! اللہ !! استاد کوشاگرد سے محبت تھی تو شاگر د بھی کیسے وفا شعار تھے ! بچپن کے رخ کود وامی تسلسل بخشا۔حضرت صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے قلب میں حضرت مولوی صاحب کا جو احترام تھا اس کا کبھی نہ کبھی اظہار ہو جا تا۔واقفین کی تدریس کے لئے اور بھی کئی اساتذہ مقرر کر دئے گئے تھے۔جن کے آپ پرنسپل بنادئے گئے تھے۔ایک دفعہ اساتذہ کسی مشورہ کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر تھے میں تو موجود نہ تھا لیکن بعد میں معلوم