اصحاب احمد (جلد 5) — Page 493
۴۹۸ ایدہ اللہ تعالیٰ معمول سے جلد نماز کے لئے تشریف لے آئے اور حضرت مولوی صاحب نماز با جماعت میں شامل نہ ہو سکے اور بعد میں پہنچے اور آ کر نماز پڑھنے لگے۔ایک لمحہ بعد ہمارے موجودہ مفتی سلسلہ اخویم محترم ملک سیف الرحمن صاحب تشریف لائے۔ہم نے ملک صاحب کو بتایا کہ کہ حضرت مولوی صاحب نے ابھی نماز شروع کی ہے آپ بھی ساتھ شامل ہو جائیں تا کہ باجماعت نماز ہو جائے۔وہ فقیہ تھے ان کے دل کو یہ بات پسند آگئی اور حضرت مولوی صاحب کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ساری نماز آپ کی اقتدا میں پڑھی لیکن حضرت مولوی صاحب نے کوئی تکبیر بلند آواز سے نہیں کہی۔خاموشی سے تمام نماز پوری کی۔اور سلام پھیر نے کے بعد ملک صاحب سے فرمایا کہ آپ کو نیت کا ثواب ملے گا۔حضرت صاحب نے مسجد مبارک میں دوسری جماعت کرنا منع فرمایا ہوا ہے۔اس لئے حضور کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے جماعت نہیں کروائی اللہ! اللہ ! اطاعت امام میں آپ کا مقام کس قدر بلند تھا!!! حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دور دیکھا۔پھر خلافت اولیٰ کا اور پھر خلافت ثانیہ کا۔تینوں دوروں کے ایمان افروز واقعات سنانا آپ کا معمول تھا۔آپ نے وہ واقعہ بھی سنایا کہ کس طرح ایک ہند و مجسٹریٹ نے آریوں سے وعدہ کیا کہ آئندہ پہلی پیشی میں وہ معاذ اللہ حضور کو قید کر یگا تا کہ لیکھرام والا بدلہ لیا جا سکے۔اور حضور نے یہ واقعہ مجھ سے سن کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے کس رنگ میں اس کے شر سے آپ کو محفوظ رکھا اور وہ واقعہ بھی سنایا کہ باوجود یہ معلوم ہونے کے کہ حضور کے لئے آم رکھوائے گئے ہیں اور کئی وقت کے بعد حضور نے آم کے ساتھ روٹی تناول فرمائی تھی۔خواجہ کمال الدین صاحب نے آم اپنے گھر بھجوا دیئے اور حضور کی علالت کی بھی پرواہ نہیں کی۔آپ نے فرمایا کہ جب حضرت مولوی نورالدین صاحب مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو میں نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ یہ تین مسائل ہیں۔جن میں حضور کا اور میرا اختلاف تھا۔اب حضور خلیفہ ہیں اور حضور کے مسلک کے خلاف بولنا مناسب نہیں اس لئے آپ ان مسائل کے بارے میں اپنا نظریہ بیان فرما دیں۔حضور نے تینوں میں مجھ سے اتفاق فرمالیا۔فرماتے تھے کہ خلافت ثانیہ کے آغاز میں مخالفین خلافت زوروں پر تھے۔اور جماعتوں میں ان کا پرو پیگنڈا جاری تھا۔میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اس پروپیگنڈا کے ازالہ کے لئے اپنی خدمات پیش حضور نے فرمایا میرے پاس روپیہ کوئی نہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور روپیہ کی پرواہ نہ کریں۔میں یہ دونوں واقعات روایات میں تفصیلا درج ہیں۔(مؤلف)