اصحاب احمد (جلد 5) — Page 429
۴۳۴ جو شخص آپ کی مخالفت کرتا آپ اس کو جواب نہ دیتے اور فرماتے کہ فرشتے میری طرف سے اس کو جواب دیں گے میں نہیں دوں گا۔اس کی ایک مثال شیخ عبد الرحمن صاحب مصری ہیں جو ہمیشہ آپ کی شدید مخالفت پر کمر بستہ رہتے تھے لیکن آپ ایسی چشم پوشی کرتے کہ اس پر یہ بھی ظاہر نہ ہوتا کہ آپ کو اس کی کارروائیوں کا علم ہے۔مصری صاحب کی اہلیہ نے خواب دیکھا کہ مصری صاحب کو مکان کے باہر کھڑا کر کے گولی ماردی گئی جس سے ان کا سینہ چاک ہو گیا۔چنانچہ انہوں نے غرباء میں کھانا بطور صدقہ تقسیم کیا۔حضرت مولوی صاحب نے مغرب کی نماز کے بعد اپنے گھر آتے ہوئے کھانا کھانے والوں کا اجتماع دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔میں نے بیان کی تو فرمایا کہ خواب کی تعبیر یہ ہے کہ مولوی صاحب کے دل کی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ منافقانہ باتیں جو وہ دل میں عرصہ سے چھپائے بیٹھے تھے نہ صرف دوسروں کے ذریعہ بلکہ خود اپنے خطوط سے طشت از بام ہوگئیں اور حضرت مولوی صاحب کی تعبیر صحیح نکلی۔ایک دفعہ جبکہ آپ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی جگہ قائم مقام سیکرٹری صدرانجمن تھے۔مرزا محمد اشرف صاحب محاسب نے ایک چیک قیمتی چھ ہزار روپیہ چوہدری برکت علی خان صاحب مرحوم کو ( جو بعد میں وکیل المال ہو گئے تھے ) دیا کہ لاہور سے اس کی رقم لے آئیں۔اتفاقا یہ رو پیراستہ میں ضائع ہو گیا۔اس پر صدرانجمن نے ہر دو کو معطل کر دیا۔اس موقع پر شیخ مصری صاحب نے غلط واقعات حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کئے۔گویا کہ مولوی صاحب کی اس نقصان کے متعلق ذمہ داری ہے۔حضور نے اس بارہ میں استفسار کیا۔آپ چونکہ بے قصور تھے اس اچانک استفسار سے آپ نے بہت صدمہ محسوس کیا۔خصوصاً حضور کی ناراضگی کے باعث آپ نے خلوت اختیار کر لی اور کمرے میں علیحدگی میں دعائیں کرتے رہتے۔صرف قہوہ منگواتے کھانا بھی چھوٹ گیا۔البتہ نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کرتے۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے حضور کے استفسار کا جواب طلب ہوتا رہا۔آپ نے کہلا بھیجا کہ میرے مکان پر کسی کو نہ بھیجا جائے میں جواب دے دوں گا۔چنانچہ آپ نے چھ صفات پر مشتمل ایک خط میں حضور کی خدمت میں جملہ پر حالات تحریر کئے۔اس میں یہ بھی لکھا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک بار محض میری واحد شہادت پر فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک دفعہ ایک ہی صحابی کی شہادت پر فیصلہ فرما دیا تھا اس پر مصری صاحب کے بیان کردہ امور کی تغلیط ہوکر معاملہ صاف ہو گیا۔۳۸۔خاکسار مؤلّف اپنے تاثرات مختصر اذیل میں عرض کرے گا۔کیونکہ بیشتر حصہ دیگر احباب کی طرف سے بیان ہو چکا ہے اپنے بیان میں راقم نے بعض حوالے بھی شامل کر دئے ہیں۔