اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 430 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 430

۴۳۵ عزم صمیم و غیره اخلاق فاضله۔آپ عزم صمیم کے مالک تھے اور یہ امر آپ کے ترک افیون کے واقعہ سے ظاہر ہے۔آپ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی نصیحت سنی اور اس پر عمل پیرا ہونے میں متر در نہیں ہوئے۔حالانکہ ایک دم ترک کرنے سے شدید تکلیف برداشت کرنی پڑی لیکن موت و حیات کی کشمکش آپ نے بطبیب خاطر قبول کی۔منشی اشیاء کی عادت چھوڑ نا سہل امر نہیں کہ قریباً پچھتر سال کی پیرانہ سالی کی عمر تک نہایت با قاعدگی سے تہجد گزاری اور بے مثال با جماعت ادا ئیگی نماز بھی آپ کی عدیم النظیر قوت ارادی پر دال ہے۔آپ جس وقت ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کے عہد میں امامت صلوۃ کرتے تھے تو صرف بتیس سال کی عمر کے تھے۔اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سینتالیس سال کے تھے اور سید محمد احسن صاحب بھی بہت زیادہ عمر کے تھے۔آپ میرے شفیق استاد اور سلسلہ کے بہت بڑے بزرگ تھے اور میں آپ کا ادنی شاگر د تھا۔میرے فائدہ کی ایک بات آپ کو سو جبھی آپ مجھے اپنے پاس بلوا سکتے تھے لیکن خاکسار کے پاس بنفس نفیس لائبریری میں تشریف لائے۔آپ اپنے شاگردوں پر استاد ہونے کا فخر نہیں جتاتے تھے بلکہ انکسار اور فروتنی سے ہی ملاقات فرماتے اور یہ خلق جمیل آپ سے کبھی الگ ہوتے نہیں دیکھا۔میں بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں چھ سات سال مقیم رہا۔حضرت مولوی صاحب کا قیام بھی بورڈنگ کے کوارٹر میں تھا۔بسا اوقات ہم اس کوارٹر کے پاس ہی کھیلتے یا بہت وقت گزارتے لیکن میں نے کبھی بھی آپ کو اہل بیت سے بآواز بلند یا غصہ سے مخاطب ہوتے نہیں پایا۔بشیر آرچرڈ صاحب کا رویا بشیر آرچرڈ صاحب ہندوستان میں فوج میں ملازم تھے۔جبکہ ان کو قبول احمدیت کی توفیق ملی اور تقسیم ملک کے وقت حصول علم دین کے لئے وہ قادیان میں مقیم تھے اور آج کل جزیرہ ٹرینڈ اڈ میں مجاہد ہیں۔انہوں نے ذکر تذکرۃ المہدی حصہ اول میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں۔”جناب مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جب قادیان حضرت امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت سے مشرف ہوئے تو ایک دم افیون ترک کر دی۔وہ افیون بھی معتاد سے زیادہ کھاتے تھے ان کو کوئی نقصان نہ ہوا بلکہ اور زیادہ تندرست اور قوی ہو گئے۔“ (صفحہ ۱۰) ترک افیون سے آپ کی شدید علالت کا تفصیلی ذکر سیرۃ سرور حصہ اول میں آچکا ہے۔