اصحاب احمد (جلد 5) — Page 428
۴۳۳ بھائیوں جیسا سلوک کرتا۔ان الفاظ سے ہم اور بھی زیادہ رونے لگے۔جس پر آپ نے از راہ شفقت فرمایا کہ جاؤ اپنی جماعتوں میں کوئی بات نہیں۔میں نے اس تفصیل کا ذکر حضرت مولوی صاحب سے کیا تو آپ نے ایک خاصی لمبی تقریر فرمائی جس میں فرمایا۔میاں تمہیں معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے لئے کس قدر دعائیں کی ہیں۔یہ آیت اللہ میں ان کی جتنی عزت کرو کم ہے اور پھر بتایا کہ میں حضرت صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ) والی جماعت میں آپ کے احترام کی وجہ سے کرسی پر بھی نہیں بیٹھتا تھا۔آپ بیان کرتے تھے کہ تفسیر قرآن مجید جو میں لکھتا تھا اور شائع ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد لکھنی بند کر دی۔ایک دن حضرت خلیفتہ الاول نے مجھ سے اس کا سبب دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ سے کسی آیت کی تفسیر میں اختلاف ہوتا تھا اس کا بھی میں ذکر کر دیتا تھا لیکن چونکہ آپ اب خلیفہ ہیں اور میں آپ سے بیعت ہوں اس لئے اختلاف نہیں کر سکتا اور تفسیر لکھنا بند کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا مولوی صاحب! آپ تفسیر ضرور لکھیں اور جس جگہ مجھ سے اختلاف ہو وہاں ضرور بالوضاحت ذکر کریں آپ کے حکم سے میں نے پھر تفسیر لکھنا شروع کر دیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں بھی آپ نہایت ادب سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول بعض دفعہ فرماتے تھے کہ میں حافظ روشن علی صاحب کی تسلی نہیں کر اسکا۔آپ ان کو یہ سبق پڑھا دیں۔آپ یہ عرض کرتے کہ آپ یوں نہ فرمائیے بلکہ پڑھانے کا حکم دے دیا کریں۔آپ بچوں اور بچیوں سے ایک جیسا سلوک کرتے۔برابر مقدار میں پیسے دیتے۔اولاد کے ساتھ بہت محبت اور پیار کرتے تھے۔کوئی بیمار ہو جاتا تو اسے گود میں لے کر بہت بہت دیر تک ٹہلتے رہتے تھے۔میں نے اپنے سترہ سالہ قیام میں اپنے اہل بیت سے کبھی لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔آپ حیا اور چشم پوشی کے باعث کسی شخص کو بالمشافہ اس کی شکایت کے بارے میں کچھ نہیں فرماتے تھے بلکہ نام لئے بغیر سب کے سامنے بات بیان کر دیتے تا کہ ایسا شخص اپنی اصلاح کرلے۔چونکہ حضرت مسیح موعود کی خواہش پر کہ آپ زیادہ عرصہ قادیان میں قیام رکھیں بالآخر حضور کی اجازت سے ہجرت کر آئے تھے۔اس لئے آپ نے اپنے وطن کا خیال ہی دل سے نکال دیا تھا۔صرف بڑے بیٹے کی شادی پر اور ایک دفعہ اپنی پھوپھی صاحبہ کی وفات پر آپ وطن گئے۔فرماتے تھے کہ جب حضرت صاحبزادہ مرزامحموداحمد صاحب (خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی) مدرسه تعلیم الاسلام میں تعلیم حاصل کرتے تھے تو میں آپ کی جماعت میں آپ کے احترام کی وجہ سے کرسی پر نہیں بیٹھتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی علومشان کے متعلق اطلاع دے دی تھی۔