اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 427 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 427

۴۳۲ صورت میں گزرتے گویا آپ نے کوئی بات نہیں سنی اور آپ کبھی یہ نہ جتلاتے کہ میں نے تمہاری یہ بات سن لی تھی یا تم شور کرتے تھے تا کہ لڑکے شرمندہ نہ ہوں۔البتہ ان کونصیحت حاصل ہو جائے۔اس پر لڑ کے خود ہی شرمندہ ہو جاتے تھے جو طالب علم جھوٹ بولتا تو اسے سختی سے تنبیہ کرتے کہ جھوٹ نہ بولو اور اگر کوئی بچہ سچ بولتا اور کچی بات بتا دیتا تو آپ اسے سزا نہ دیتے بلکہ محبت اور پیار سے سمجھاتے اور نصیحت فرماتے۔آپ شاگردوں کو نصیحت فرماتے کہ روزانہ با قاعدگی سے مطالعہ کرنا چاہئے اور بار بار اس امر کی تاکید ی تفصیل فرماتے تھے اور بیان کرتے کہ میں اپنے اساتذہ کے پاس بغیر مطالعہ کے کبھی نہیں جاتا تھا۔آپ پوری تف سے پڑھاتے اور ہر پہلو کو پوری طرح واضح کرتے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے دولفظوں کی تشریح پر ایک ہفتہ صرف کر دیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ خلافت اولیٰ میں آپ حضرت صاحبزادہ صاحب کو گول کمرے میں سبق پڑھاتے تھے اور میں وہاں آپ کے لئے قہوہ لے کر جاتا۔جب میں دروازه پر دستک دیتا تو صاحبزادہ صاحب اٹھ کر دروازہ کھولتے اور قہوہ کی ٹرے پکڑ لیتے اور مولوی صاحب کے سامنے رکھ دیتے۔مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ جب قہوہ لاؤ۔السلام علیکم کہو اور آواز دو تا کہ میں آواز پہچان کر خود اٹھ کر ٹرے لے لیا کروں لیکن باوجود اس کے بعض دفعہ صاحبزادہ صاحب ہی قہوہ پکڑ لیتے۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے قہوہ وہاں پہنچانے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ چونکہ صاحبزادہ صاحب بعض دفعہ ٹرے پکڑ لیتے ہیں مجھے اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔آپ عالی شان وجود ہیں اور انبیاء کی پیشگوئیوں کے مصداق ہیں۔آپ دیگر صاحبزادگان کا بھی بہت احترام کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے آپ سے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے اس پر خوشی سے آمادگی کا اظہار کیا لیکن صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میں خود آپ کے پاس آیا کروں گا لیکن آپ اس پر رضامند نہ ہوئے اور بالآخر اس امر پر آمادہ کر لیا کہ آپ ان کی کوٹھی پر پہنچ کر پڑھایا کریں گے۔چنانچہ آپ عصر کے بعد صاحبزادہ صاحب کی کوٹھی پر پہنچتے اور پڑھاتے۔حالانکہ کوٹھی تعلیم الاسلام کالج کے قریب آپ کے مکان سے جو شہر میں تھا بہت دور تھی۔ایک دفعہ جبکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب افسر مدرسہ احمد یہ تھے ہم کھیل کے معاملہ میں آپ کو ناراض کر کے واپس چلے آئے۔حضرت مولوی صاحب کو علم ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس شخص کی کیا شان ہے اور یہ کون ہے تم نے سخت غلطی کی۔آپ کو اتنا نا گوار گزرا کہ ہم آپ کے سامنے آنکھ بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔اگلے روز ہمیں حضرت صاحبزادہ صاحب نے دفتر میں بلوایا۔قبل اس کے کہ آپ ہمیں کچھ کہتے ہم سب رونے لگے اس پر آپ کی آنکھیں بھی ڈبڈبا آئیں اور فرمایا کہ میں تو آپ سے