اصحاب احمد (جلد 5) — Page 405
۴۱۰ ۱۹۵۷ء میں ضلع ہزارہ میں ایبٹ آباد کے ایک مولوی صاحب نے باتوں باتوں میں مجھے کہا کہ مولوی سرورشاہ صاحب احمدیوں میں بہت بڑے عالم ہیں ان کے پائے کا عالم مجھے تو اب کوئی بھی نظر نہیں آتا۔افسوس کہ وہ احمدی ہو گئے تھے۔ایک دفعہ مشہور پادری عبدالحق صاحب ماہ جون میں اپنے دوساتھیوں کے ہمراہ قادیان آئے۔احمد یہ سکول کے طلباء کو میں نے اطلاع دی کہ پادری عبدالحق صاحب مہمان خانہ میں آئے ہوئے ہیں ان سے باتیں کرو۔پادری صاحب نے کہا کہ تم بچے ہو۔بچے ہر قوم کی اپنی اپنی امانت ہوتے ہیں اور بچوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔تم ابھی طالب علم ہوا بھی تمہارا بھی صحیح مذہب تا بلوغت کوئی نہیں اس لئے نامکمل سوالات اور نا تمام جوابات سے تمہارے پلے کیا پڑے گا۔اس لئے میں تم کو ایک ضروری بات کہتا ہوں توجہ سے سنو کہ تمہارے پاس ایک شخص مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے نام سے موجود ہیں۔وہ گوہر ہے نہایت قیمتی ہیرا ہے تم اس سے جوت لگاؤ اور اس سے علم سیکھو اس درجہ کا عالم میں نے ہندوستان بھر میں نہیں دیکھا۔دیکھو بچو ا میں مسیحی مبلغ ہوں اور گلگت تاراس کماری اور کوئٹہ تا مانڈے مناظرے کرتا رہا ہوں۔ایک دفعہ سیالکوٹ کے ضلع میں مولوی صاحب سے میرا مناظرہ ہوا۔دوسرے لوگوں پر بہت ممکن ہے میرا اثر اچھا ہوا ہو۔مگر بچو! میری اس بات کو یا درکھو کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ علمی رنگ میں مولوی صاحب نے میری جو گت بنائی اس کو میں ہی جانتا ہوں۔ان جیسا متبحر عالم میں نے ہندوستان بھر میں نہیں دیکھا۔۲۷ از اخویم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمد یہ ربوہ ہم بچپن سے ہی حضرت مولانا سیدمحمد سرور شاہ صاحب کو دیکھتے چلے آئے تھے۔مولانا کی دیگر اوصاف کے علاوہ آپ کی ایک وصف بہت ہی نمایاں تھی ، آپ ہر کام میں انتہائی طور پر با قاعدہ تھے۔آپ کی مساجد میں حاضری کی باقاعدگی تو ضرب المثل تھی۔آپ مجلس کارپرداز مصالح قبرستان کے آنریری سیکرٹری تھے۔اس کام کے لئے آپ نے ظہر کی نماز کے بعد سے لے کر عصر کی نماز تک کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔اس وقت میں اتنی با قاعدگی ساتھ آپ حاضری دیتے اور سارا کام سرانجام دیتے تھے کہ تنخواہ دار کارکن بھی اتنے با قاعدہ نہیں ہوتے۔آپ کا یہ دستور تھا کہ ہر نماز جنازہ میں ضرور شرکت کرتے چاہے جنازہ بیرون قادیان سے آیا ہو یا قادیان کا ہو۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی غیر حاضری میں نماز جنازہ بھی پڑھاتے اور پھر قبرستان تک میت کے ساتھ ضرور جاتے۔