اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 404 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 404

۴۰۹ جاتا تھا۔۱۹۲۸ء سے ۱۹۴۷ء میں آپ کی وفات تک میں نے آپ کا یہ معمول دیکھا کہ آپ جس کا جنازہ پڑھاتے اس کی معیت قبر تک کرتے اور قبر پر مٹی پڑ جانے کے بعد آخری دعا کر کے واپس آتے۔اسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ آپ نہایت با قاعدگی سے روزانہ بعد عصر بہشتی مقبرہ تشریف لے جاتے اور وہاں پھر پھرا کر معائنہ فرماتے اور ملازمین کو ہدایات دے کر نماز مغرب کے لئے سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے مراجعت فرماتے۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک جنازہ لاہور سے آیا اور مہمان خانہ میں رکھا گیا اور بعد نماز ظہر جنازہ پڑھا گیا اور میت کو بہشتی مقبرہ کے کنوئیں کے قریب کے قطعہ میں رکھا گیا۔قبر کے اندر کی مٹی کی آخری صفائی ہورہی تھی اور میت کو اٹھا کر قبر میں دو چار منٹ کے بعد ہی رکھا جانے والا تھا کہ موضع لیل کلاں والی سٹرک پر سے ایک شخص بہت زور سے آواز میں دیتا ہوا بھا گا آرہا تھا کہ اواحمدی بھائیو! اس میت کو بہشتی مقبرہ میں دفن نہ کرنا۔مجھے اس کی ایک بات ایسی معلوم ہے کہ یہ شخص بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لائق نہیں۔غرضیکہ شور سن کرمیت کو قبر میں اتارنے سے رک گئے۔پھر اس شخص نے حضرت مولوی صاحب سے سارا ذکر کیا۔اس کے بعد آپ نے کھڑے کھڑے مختصر سی تقریر فرمائی اور کہا کہ اس مقبرہ کے متعلق حضرت مسیح و مہدی“ کا فرمان ہے کہ غیر صالح شخص اس جگہ دفن نہ ہوگا۔اب دیکھو کہ ایک غیر از جماعت شخص کو کس طرح اللہ تعالیٰ نے تحریک فرمائی کہ وہ اس کی سچی بات کے اظہار کے لئے اپنا کام کاج چھوڑ کر قادیان آیا اور اس میت کی زندگی کے حالات ہمیں بتائے اور اپنے ایک محرم راز مرے ہوئے دوست کا نا گفتہ راز ہم تک پہنچایا۔غرض وہ شخص دوسرے قبرستان میں دفن ہوا ہے ایک دفعہ جبکہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ڈلہوزی تشریف فرما تھے۔حضرت مولوی صاحب نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ جماعت کے لوگ اپنی بول چال اور گفتگو میں حضرت صاحب کو صرف حضرت مسیح موعود کے ذکر سے ہی پکارتے ہیں۔حالانکہ جہاں تک میں نے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ حضرت صاحب کا مہدی ہونا بوجہ بروز محمدیت کے مسیح موعود کے درجہ سے افضل ہے اس لئے احباب کو چاہئے کہ وہ حضرت صاحب کے نام کے ساتھ مہدی کے عہدہ کی نفی نہ کریں۔یہ بڑی ضروری بات ہے اگر اسی طرح رہا تو آئندہ نسل میں خرابی پیدا ہو جاوے گی۔اس لئے پوری توجہ سے میری اس بات کو یا درکھیں اور مہدی کے نام کو اپنائیں۔ایک ایسا واقعہ حضرت مولوی صاحب سے خاکسار نے متعدد مرتبہ سنا تھا (مؤلف)