اصحاب احمد (جلد 5) — Page 318
۳۲۲ آپ سیدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قربت کے اتنے والہ و شیفتہ تھے کہ آپ نے حتی الوسع اسکے حصول کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔یہاں تک کہ آخری دنوں میں بھی گو آپ تقریبات میں بوجہ نقاہت و کمزوری حصہ لینے کے قابل نہ تھے مگر اپنی جان پر تکلیف برداشت کر کے بھی محض اس لئے حصہ لیتے کہ آپ کو اپنے حبیب کی قربت کے چند لمحے میٹر ہوں حقیقت یہ ہے کہ اگر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی گوناگوں مصروفیتیں مانع نہ ہوتیں تو آپ اپنی طرف سے ایک دم کے لئے بھی حضور سے جدائی گوارا نہ کرتے۔ہم آپ کی پاک حیات سے کئی اعلیٰ سبق سیکھ سکتے ہیں جن میں سے کمال فدائیت اور انتہائے عشق نمایاں ترین ہیں آپ کی ہمت اور اولوالعزمی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آپ نے باوجود انتہائی کمزوری کے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مجلس نہیں چھوڑی اور وفات سے ایک دن پہلے بھی وہاں موجود تھے اور ہمیں یقین ہے کہ ضعیفی کے باوجود یہ ہمت اور اولوالعزمی اس عشق کی وجہ سے تھی جو آپ کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے پاک بندوں کے ساتھ جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو مرحوم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔“ ۲۷۸ حضرت قمر الانبیاء کی نظر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی رقم فرماتے ہیں :۔میں آپ کے ہر چہار استفساروں میں سے کسی کا جواب بھی معین طور پر بھجوانے کے قابل نہیں۔کیونکہ مجھے ان کے متعلق کچھ یاد نہیں ہے۔میرا اندازہ ہے کہ مولوی صاحب کی عمر مجھ سے بقدر چو بیس پچیس سال زیادہ تھی۔واللہ اعلم مگر قومی خوب مضبوط تھے اور کاٹھی بہت اچھی تھی۔البتہ آخری ایک دو سالوں میں کافی ڈھل گئے تھے۔میرے خیال میں حضرت خلیفہ اول کے بعد احمدی علماء میں بلحاظ علم وفضل اور وسعت معلومات ان کا پایہ بہت بلند تھا اور حضرت مسیح موعود ا نہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔چنانچہ مد کے مباحثہ میں ان کو جماعت کی طرف سے نمائندہ بنا کر بھیجا۔اسی طرح نواب صاحب رامپور نے جب احمدی مسائل پر گفتگو کرانے کی خواہش کی تو حضرت مسیح موعود نے اس کام کے لئے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو منتخب کیا۔مجھے ان کا ایک خاص واقعہ خوب یاد ہے۔ایک دفعہ انہوں نے مسجد مبارک قادیان میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔حضرت مسیح موعود بھی اس نماز میں شامل تھے اور حضور نے گھر میں آ کر حضرت ام المؤمنین سے