اصحاب احمد (جلد 5) — Page 317
۳۲۱ کے بعد آپ کچھ عرصہ سہارنپور میں مدرسہ مظاہر العلوم میں مدرس رہے۔پھر آپ پشاور مشن کالج میں عربی کے پر وفیسر متعین ہوئے۔آپ پشاور میں ہی تھے جب کہ آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر ملازمت ترک کر دی اور قادیان رہائش اختیار کر لی۔قادیان میں حضور علیہ السلام کی مقدس صحبت میں رہ کر حقیقی علم سے یہاں تک استفادہ کیا کہ آپ مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہو گئے۔آپ نے قریباً اسی برس عمر پائی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجات کو بلند کرے اور اپنے قرب خاص میں جگہ عطا فرمائے۔آمین۔“ ۲۷۷ " ہر گز نہ میرد آنکه دلش زنده شد بعشق کے زیر عنوان مؤقر الفضل میں مرقوم ہے :- حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات حسرت آیات کی جانکاہ خبر تمام احباب نہایت رنج و غم کے ساتھ سنیں گے۔علمائے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں مرحوم کا جو مرتبہ تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔آپ السابقون الاولون میں سے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبرک زمانے کی یادگار۔آپ کو دیکھ کر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس اور فدائیت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ کیا کبھی فرشتوں کو دیکھا ہے تو ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے طفیل ہم نے کئی انسان فرشتے دیکھتے ہیں جن میں سے ایک حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔آپ کو دیکھتے ہی ایک روحانی مزا دل میں پیدا ہوتا تھا۔آپ علم و انکسار اور فدائیت کا ایک متحرک مجسمہ تھے۔آپ عاشق احمد علیہ السلام، عاشق خلفاء احمد یہ علیہ السلام اور عاشق سلسلہ عالیہ احمد یہ تھے۔الغرض آپ ہمہ تن عشق تھے۔آپ مدت تک مفتی سلسلہ اور سیکرٹری بہشتی مقبرہ، مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ معلم ، جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کے عہدوں پر فائز رہے۔تمام شریعتی امور میں آپ کا فتویٰ لیا جاتا۔آپ علم دینیہ میں بے نظیر قابلیت کے مالک تھے اور عالم باعمل ہونے کی وجہ سے اپنی نظیر آپ ہی تھے۔آپ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ تقریباً سلسلہ کے تمام علماء اور مبلغین کے استاد ر ہے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی استادی کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا اور آپ کا یہ شغل درس و تدریس آخر دم تک جاری رہا۔سیدنا امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ کی غیر حاضری میں مدت تک آپ کے سوا مسجد مبارک میں کوئی امام الصلوۃ نہیں ہوا اور جب تک آپ نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے بالکل معذور نہیں ہو گئے آپ پوری مستعدی کے ساتھ اس فرض کو مبالغہ کی حد تک نبھاتے چلے گئے یہاں تک کہ آپ کو آخر آرام کے لئے مجبوراً سبکدوش کرنا پڑا۔