اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 319 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 319

۳۲۳ فرمایا کہ آج مولوی سرور شاہ صاحب نے بہت اچھا خطبہ دیا۔یہ بات میرے کانوں نے سنی اور مجھے اب تک یاد ہے۔حضرت مولوی صاحب صاحب کشف ورؤیا تھے۔ایک دفعہ مجھے انہوں نے جماعت کے آئندہ حالات کے متعلق ایک رؤیا علیحدگی میں سنایا جو میں سمجھتا ہوں بہت لطیف اور درست تھا۔اس میں گویا ایک ڈرامہ کے رنگ میں اور تصویری زبان میں جماعت کے آئندہ حالات دکھائے گئے تھے اور خلافت احمدیہ کے مناظر پیش کئے تھے۔اس عاجز کیساتھ مولوی صاحب بہت محبت کرتے تھے اور نہ صرف شفقت بلکہ عزت کے ساتھ پیش آتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ کے متعلق ان کے دل میں بڑا احترام تھا وار با وجودا سکے کہ وہ غالبا حضور کے استادرہ چکے تھے وہ حضور کی جلسہ سالانہ کی تقریروں میں کاغذ قلم لے کر بیٹھ جاتے تھے اور حضور کی تقریر کے نوٹ لکھتے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کے درجات بلند ہوں۔“ آپ خاکسار کو رقم فرماتے ہیں:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبد المسيح الموجود مکرمی ملک صلاح الدین صاحب۔قادیان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا پیغام ملا۔میں بھی حضرت مولوی سرور شاہ صاحب سے پڑھا ہوں۔ایک خاص کتاب جو میں نے ان سے پڑھی تھی الحُجّة البالغة مصنفہ (حضرت ) شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی تھی۔شاید کوئی اور کتاب بھی پڑھی ہوگی۔حضرت مولوی صاحب کے علم کی گہرائی اور وسعت کا میرے دل پر بڑا گہرا اثر ہے۔میرے خیال میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے بعد اس زمانہ میں علم میں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کا مقام ہی تھا۔ان کی نظر بڑی وسیع تھی اور مطالعہ بھی بڑا وسیع تھا اور رائے بھی بڑی صائب تھی۔باوجود اس کے وہ مزید علم کے بڑے شائق رہتے تھے۔چنانچہ میں نے بار ہادیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی جلسہ سالانہ کی تقریروں میں وہ کاغذ اور قلم دوات لے کر نوٹ لکھا کرتے تھے۔ان کی تفسیر قرآن مجید بھی ان کے وسعت علم پر شاہد ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب انہوں نے مسجد مبارک میں جمعہ پڑھایا تو حضور نے جمعہ کے بعد گھر میں آکر حضرت ام المؤمنین سے فرمایا کہ آج مولوی سرورشاہ (صاحب) نے بہت اچھا خطبہ دیا ہے۔والسلام ۶۳-۳-۱۶