اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 298 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 298

٣٠٢ خاکسار مؤلف کے نزدیک یہ رویا حضرت مولوی صاحب کے متعلق تھی۔اللہ تعالیٰ نے انداری پہلو کو قریباً پونے دو سال تک ملتوی رکھا۔آپ ان اصحاب میں سے آخری بزرگ تھے جن کی اقتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمازیں ادا کیں۔گویا حضور کی قائم مقامی میں اور بعد میں خلفاء کرام کی قائم مقامی میں امامت صلوٰۃ کا شرف آپ کو حاصل ہوتا رہا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی علالت کے زمانہ (۱۹۰۵ء) سے آپ کو امامت کا موقع ملا جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نیابت تھی اور یہ شرف بیالیس سال تک ممتد رہا۔آپ کے علم و فضل کے پیش نظر بجاطور پر آپ کے متعلق یہ دکھلایا گیا کہ حضرت مسیح موعود یا حضرت خلیفہ اسیح الثانی (متعنا الله بطول حياته ) کی وفات ہوئی ہے۔گویا یہ بتایا گیا ہے کہ بقیہ حاشیہ : یکدم غائب ہو گئے حالانکہ ابھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دستخط نہیں کئے تھے۔اس میں بھی اشارہ ہے کہ پہلے حصہ میں مولوی صاحب کے رپورٹ پیش کرنے کی تعبیر صیغہ بہشتی مقبرہ کی طرف سے رپورٹ پیش ہونے کے ہیں اور گویا مولوی صاحب حضور کے دستخط فرمانے سے قبل غائب ہو چکے ہوں گے۔اس رؤیا کے بعد تا وفات حضرت مولوی صاحب کسی ایسے بزرگ کی وفات نہیں ہوئی جن پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تعبیر کے الفاظ اپنی پوری شان کے ساتھ اور اعلیٰ اور اتم رنگ میں منطبق ہوتے ہوں۔کسی ایسے مخلص صحابی یا کسی مقامی جماعت کے اہم انسان کی موت کی خبر دی گئی ہے۔۔۔اس شخص کی خدمات سلسلہ کے لئے ایسی ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا جانشین عام جماعت کے لحاظ سے یا پھر مقامی لحاظ سے سمجھا جاسکتا ہے۔“ اکتالیس بیالیس سال تک حضرت مسیح موعود خلفاء کرام کے مبارک زمانوں میں مولوی صاحب بطور امام الصلوۃ وخطیب جمعہ وعید بین قائم مقام ہوتے رہے۔امیر مقامی ، خلافت ثانیہ میں مقرر ہوتے ہے۔تفسیر قرآن مجید کے لحاظ سے حضرت اقدس کے زمانہ سے قائم مقام ہوتے رہے جماعت کے قریباً سارے مبلغین کی تیاری اور تعلیم میں آپ نے قریباً نصف صدی خدمات جلیلہ سرانجام دے کر گویا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةِ کے فرض میں حضرت اقدس اور خلفاء کرام کی نیابت کی اور اس رؤیا کے بعد آپ کی وفات تک کوئی ایسی جلیل القدر شخصیت کی وفات واقع نہیں ہوئی کہ جس سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو ایسا شدید صدمہ ہوتا کہ گویا اس سے آپ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا اور یہ امر گواظہر من الشمس ہے۔تب بھی یہ ذکر کر دیتا ہوں کہ مولوی صاحب کی وفات پر جو خطبہ آپ کی جلالت شان کے متعلق حضور ایدہ اللہ نے پڑھا تھا۔وہی شاہد ناطق ہے کیونکہ اس رؤیا کے بعد مولوی صاحب کی وفات تک حضور نے کسی اور بزرگ کے متعلق ایسا خطبہ نہیں دیا۔