اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 297 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 297

میری وفات کے متعلق نظارہ دیکھا تھا۔اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا جماعت کا کارکن خطرہ میں ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم مقام اور امام جماعت کا قائم مقام کہا جا سکتا ہے۔اس طرح بعض اور دوستوں نے یہ خواہیں بھی لکھی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ خواہیں گومیری خواب کے بعد کی ہیں لیکن چونکہ میری خواب اب تک شائع نہیں ہوئی یہ تو اتر معمولی نہیں کہا ا سکتا۔حمد الفضل ۲۱ ستمبر ۱۹۴۵ ء ص ۲،۱۔اس رویا میں متعدد ایسے قرائن ہین جو انفراداً اور مجموعاً حضرت مولوی صاحب کی تعیین پر دلالت کرتے ہیں جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :۔(۱) حضرت مسیح موعود کی وفات دکھائی گئی اور دیگر احباب کو بھی حضرت اقدس یا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی وفات کی خبر دی گئی۔( اللہ تعالیٰ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو عمر دراز عطا کرے۔آمین ) جس دوسرے بزرگ کا ذکر ہوا ہے ان کی تنقیض کا سوال نہیں۔البتہ یہ ذکر کرتا ہوں کہ حضرت مولوی صاحب اپنے علم و فضل سے کم از کم بوقت وفات یکتا تھے اور حضرت مسیح موعود و خلفاء کرام کی قائم مقامی فرماتے رہے ہیں۔رؤیا کے جلد بعد ایک اور بزرگ قادیان میں فوت ہوئے تھے ان کے بعض اقارب کا خیالات تھا کہ وہی مراد ہیں لیکن حقیقتاً وہ اپنی خدمات کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود اور خلیفہ وقت کے قائم مقام نہیں تھے۔(۲) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ دستخط کئے۔چنانچہ مولوی صاحب کے وصیت کے ریکارڈ سے (جو اس کتاب میں درج ہے ) یہ ثابت ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی وصیت کے متعلق دوبارہ معاملہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش ہوا۔دوسری بار قبر کے متعلق مولوی صاحب کی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پہلی دفعہ حضور کے موصولہ ارشاد کا اپنی چٹھی میں ذکر فرمایا ہے۔(۳) رویا میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ جھٹک کر اس امر پر حقارت کا اظہار کیا کہ تدفین کے لئے دوسال کی آمد دریافت کی جائے۔یہ حضرت مولوی صاحب کی رفع منزلت اور علو مقام کا مظہر ہے۔رؤیا کے بعد مولوی صاحب کی وفات تک میرے علم میں کوئی ایسی شان کا جلیل القدر انسان فوت نہیں ہوا۔جس میں مندرجہ بالا ہر سہ امور مجموعہ پائے جاتے ہوں۔شاید کسی کو یہ خیال گذرے کہ رویا میں خود مولوی صاحب ہی دفتر بہشتی مقبرہ کی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔دراصل اس حصہ رویا میں آپ کے دکھائے جانے سے مراد بہشتی مقبر کا صیغہ ہے جس کے آپ بائیں سال سے افسر تھے اور آپ کا وجود اس سے الگ نہ تھا۔اسی وجہ سے ساتھ ہی یہ بھی دکھایا گیا کہ مولوی صاحب