اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 272 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 272

(1) مولوی محمد علی صاحب کا ادعا تھا کہ جماعت کے سب سے بڑے عالم سید محمد احسن صاحب کی تائید ان کو حاصل ہوگئی ہے اور یہ امر گویا ان کے حق پر ہونے پر شاہد ہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اس کی تردید میں رقم فرماتے ہیں :- میں اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب جماعت کے سب سے بڑے عالم آدمی ہیں۔علم کا اس رنگ میں فیصلہ کرنا ہر شخص کے لئے آسان نہیں۔میرے نزدیک مولوی سید سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیر حسین صاحب کسی صورت میں مولوی سید محمد احسن صاحب سے کم نہیں ہیں۔۔۔۔۔غرض نہ قدامت کے لحاظ سے اور نہ علم کے لحاظ سے ان کو دوسروں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل ہے کہ ان کے قول کو حجت قرار دیا جاوے۔ہاں بوجہ اس کے کہ وہ عالم آدمی تھے اور کبیر السن تھے ہماری جماعت کے علماء بھی اور دیگر لوگ ان کا احترام اور عزت واجبی طور پر کرتے تھے۔۲۵۳ (۲) جلسه سالانه ۱۹۱۴ء میں حضور نے اپنی تائید میں آسمانی شہادتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: - ’اس بات کو قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوایا کچھ کم کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جارہی ہے کہ راستہ میں کسی نے مجھے حضرت خلیفہ اسیح کی وفات کی خبر دی تو میں نے گاڑی والے کو کہا کہ جلدی دوڑاؤ تا میں جلدی پہنچوں۔یہ رویا بھی میں نے حضرت کی وفات سے پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سنائی تھی۔جن میں سے چند کے نام یاد ہیں۔نواب محمد علی خان صاحب ، مولوی سید سرور شاہ صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور غالبا ماسٹر محمد شریف صاحب بی۔اے پلیڈر چیف کورٹ لاہور کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی میں نے جانا مناسب نہ سمجھا اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ میں نے رویا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے۔پس میں نے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیج کر اس ضرورت کو رفع کیا لیکن منشائے الہی کو کون روک سکتا ہے؟ چونکہ حضرت نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمعہ کے لئے قادیان آتا تھا۔جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے لئے تیار ہوا کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مجھ سے بات کرنی ہے۔میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی۔اس میں وہ بھی بیٹھ گئے اور