اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 271 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 271

۲۷۵ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرا یہی اعتقاد تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی مصلح موعود ہیں۔میں نے انہی دنوں میں اس پیشگوئی پر اچھی طرح غور کیا تھا اس غور کے نتیجہ میں میں اس اعتقاد پر پہنچا تھا کہ مصلح موعود آپ ہی ہیں۔“ ۲۵۱ ا خویم سیّد احمد علی صاحب فاضل مربی حال متعین لائل پور بیان کرتے ہیں :- میں جامعہ احمدیہ کی مبلغین کلاس میں پڑھا کرتا تھا اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہمیں تفسیر القرآن پڑھایا کرتے تھے۔حسب دستور ۱۵ جولائی ۱۹۳۵ء کو بھی جب آپ سبق پڑھا رہے تھے تو ضمنا آپ نے ایک بات کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ مجھ سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن میں نے کہا کہ میاں آپ کے والد حضرت مسیح موعود کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں کیا آپ کو بھی خوا ہیں وغیرہ آتی ہیں تو میاں صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب خواہیں تو بہت آتی ہیں لیکن ایک خواب تقریباً میں روز ہی دیکھتا ہوں اور جو نہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صبح اٹھتے تک یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک فوج ہے میں اس کی کمان کر رہا ہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ میں سمندروں سے گذر کر آگے جا کر مقابلہ کر رہا ہوں اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اگر پار گزرنے کے لئے اور کوئی چیز نہیں پائی تو کانے وغیرہ سے کشتی بنا کر پار گیا اور جا کر حملہ آور ہوا ہوں۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ جب یہ خواب میں نے آپ سے سنا میرے دل میں اس وقت سے یہ بات گڑ گئی کہ یہ شخص یقینا کسی وقت جماعت کی لیڈری کرے گا اور اس وجہ سے میں نے اس دن سے بوجہ ادب کے آپ کی کلاس میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھنا چھوڑ دیا اور آپ سے یہ خواب سننے کے بعد میں نے آپ سے یہ پختہ عہد لیا کہ میاں آپ بڑے ہو کر مجھ کو نہ بھلا دیں اور مجھ پر پھر بھی نظر شفقت رکھیں۔حضرت مولوی صاحب نے ایسی ہی اور بھی چند خواہیں حضور کی سنائیں اور یہ اس زمانہ کی ہیں جب کہ آپ ہنوز سلسلہ تعلیم میں مشغول بلکہ چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے۔مگر آخر وہ وقت آ گیا کہ جب خدا نے آپ کی ان خوابوں کو پورا کرتے ہوئے آپ کو ایک جماعت کا خلیفہ اور امام بنا کر ہندوستان اور ہندوستان سے باہر سمندر پار کے ممالک میں تبلیغ احمدیت پہنچانے کی توفیق دی۔چنانچہ سمندر پار کی ترقی کا سہرا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سر پر ہے۔‘ ۲۵۲ تائید خلافت میں آپ کی شہادت متعدد بار تائید خلافت میں آپ کی شہادت یا آپ کا وجود پیش کیا گیا چنانچہ