اصحاب احمد (جلد 5) — Page 273
۲۷۷ میں بھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے۔گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور جس وقت اس سڑک پر چڑھ گئی۔جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈز میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہو گئے۔اس وقت میں بے اختیار ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ اسی وقت نواب صاحب کو وہ رویا یاد آ گئی اور آپ نے کہا کہ وہ رویا پوری ہوگئی۔“ ۲۵۴ (۳) ۱۹۱۵ء میں غیر مبایعین کے خیالات کے ابطال میں سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے کتاب حقیقۃ النبوة“ تالیف فرماتے ہوئے اس میں چھ شہادتیں درج کی ہیں کہ کتاب تریاق القلوب کی تالیف تک حضرت اقدس سمجھتے تھے کہ مجھے مسیح ناصری پر جزوی فضیلت حاصل ہے لیکن اس کی اشاعت دیر سے ہوئی۔اس کی اشاعت سے قبل حضور یہ شائع کر چکے تھے کہ حضور مسیح ناصری سے افضل ہیں۔چنانچہ مولوی صاحب کی شہادت درج ذیل ہے :- والله باللہ ثم تا اللہ کہ میں بخوبی جانتا ہوں اور مجھے بخوبی یاد ہے اور میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے شفا خانہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب میں آ کر حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اس وقت مطبع کوئی قریباً تیرہ سو روپیہ کا مقروض ہے اور باعث اس کا یہ ہے کہ تریاق القلوب اور اور چند کتابیں بالکل تیار پڑی ہوئی ہیں اور حضرت صاحب کو نہ ان کی اشاعت کا خیال آتا ہے اور نہ کوئی توجہ دلاتا ہے اور بعض تو مقدمات وغیرہ کے باعث رُکی پڑی ہیں اور ان سب پر بہت سا روپیہ لگا ہوا ہے اور جب تک وہ شائع نہ ہوں تب تک مطبع کا چلانا بہت ہی دشوار ہے جو ابھی نا تمام ہیں ان کو تو جانے دیجئے مگر تریاق القلوب وغیرہ تو بالکل ختم ہیں۔فقط بعض میں ایک دوسطریں لکھ کر مضمون کو ختم کر دینا ہے اور بس۔اس پر مولانا صاحب نے وہ حساب کا کاغذ بھی لے لیا اور حکیم صاحب کو فرمایا کہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے میرے سامنے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ تریاق القلوب کا مسودہ پیر منظور محمد صاحب سے لے کر میرے پاس بھیج دینا کہ میں اس کے آخری مضمون کو دیکھ کر چند سطریں لکھ کر مضمون کو ختم کر دوں گا۔چنانچہ وہ مسودہ لایا گیا تو اس میں سے کوئی ایک صفحہ کا مضمون باقی تھا تو حضرت صاحب نے اس کے ساتھ چند سطر میں اور لکھ کر مضمون کو ختم کر دیا تو پہلے جو کتاب تریاق القلوب مدت دراز سے چھپی ہوئی موجود تھی اس کے آخر میں اس مضمون سے ایک ورق نیا چھاپ کر لگا دیا گیا اور کتاب شائع ہوگئی۔چنانچہ اس عرصہ میں اور بہت سی کتابیں جو پہلے کی ہیں شائع کی گئی ہیں اور یہ ایسا مشہور واقعہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو بھی معلوم ہوگا اور میں