اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 266 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 266

۲۷۰ حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے سارے خاندان کو جمع فرمایا اور سب کو اپنے نقطہ نگاہ سے متفق کر لیا۔بعد نماز عصر آپ حضرت خلیفہ اول کے پلنگ کے قریب بیٹھے تھے۔دل میں ابال اٹھا۔تحریک دعا اور جوش ذکر پیدا ہوا۔تنہائی اور علیحدگی کے لئے اندر سے اٹھ کر برآمدہ میں آئے اور مولوی محمد سرور شاہ صاحب سے فرمایا : - طبیعت بہت گھبرائی ہوئی ہے۔میں کچھ دیر کے لئے علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔آپ ایسا انتظام کریں کہ دوست میرے پیچھے نہ آئیں۔“ مولوی صاحب نے عرض کیا میں احباب کو روک دوں گا۔آپ تشریف لے جائیں۔چنانچہ آپ تنہا حضرت مولوی صاحب کی کوٹھی سے جانب مشرق سید ھے باغ میں سے ہوتے ہوئے جارہے تھے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب نے جو کہ اپنے ساتھیوں سمیت کوٹھی کے شمال جانب لپ سڑک کوئیں پر کھڑے آپس میں مشورے کر رہے تھے۔آپ کو باہر جاتے دیکھ کر ساتھیوں کو بتایا کہ میاں وہ جارہے ہیں۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے تیز قدم اور جلد جلد چل کر پہلے مشرق اور مشرق سے جنوب کو کوٹھی کے شرقی جانب کی سڑک پر حضرت کو آکر روک لیا اور اس وقت سے شام کی اذان تک دونوں اسی سڑک پر شمالاً جنو با ٹہلتے اور باتیں کرتے رہے۔میں کوٹھی کے ورا نڈہ میں سے اور مولوی محمد علی صاحب کے رفیق شمالی کو ئیں سے دیکھتے رہے۔نہ میں ہی آگے بڑھا اور نہ وہ آ کر مخل ہوئے۔اذان سُن کر دونوں اپنے اپنے راستے واپس ہوئے۔بقیہ حاشیہ: - مولوی صاحب ! یہ طریق ٹھیک نہیں ہو گا۔وحدت قومی قائم نہ رہ سکے گی۔اتحادٹوٹ جائے گا اور جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اس کا شیرازہ بکھر جائے گا کیونکہ ان میں کوئی ایک بھی ایسا آدمی نہیں جو ہم میں سے کسی کی بیعت کرے۔تو دوسرے ساتھی اس کا ساتھ دیں اور کبھی بیعت کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں۔بر خلاف اس کے مجھے نہ صرف اپنے خاندان پر بلکہ اپنے دوستوں اور سارے ہی ہمخیالوں کے متعلق یقین اور کامل وثوق ہے کہ اگر میں ان میں سے کسی ایک کی بیعت کرلوں تو وہ تمام کے تمام میرا ساتھ دیں گے اور بیعت کر کے متحد یکجان ہو جائیں گے اور اس طرح ہماری قومی وحدت کو جو خطرہ درپیش ہے ، جاتا رہے گا۔جماعت بجائے منتشر اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر متفق و مستحکم ہو جائے گی۔رہا خصوصیات کا سوال سوان میں جب تک خلیفہ کوئی حکم نہ دے گا۔ہمیں اجازت ہوگی کہ جس چیز کو ہم حق وصداقت یقین کرتے اور منشاء شریعت سمجھتے ہیں۔قائم کرنے اور اس کے قائم رکھنے کی کوشش کریں۔البتہ اگر خلیفہ بھی حکم دے کر ہمیں روک دے تو اس کا حکم ماننا اور فرمانبرداری کرنا ہمارے لئے ضروری ہوگا۔اور اس حال میں پھر سلسلہ کا خود خدا حافظ ہوگا۔ہم خاموش ہو ر ہیں گے۔“ ۲۴۵