اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 265 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 265

۲۶۹ خطرہ کو دیکھ رہے تھے۔طبعا ہر ایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہورہاتھا کہ اب کیا ہوگا ؟ میں تو برابر دعاؤں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو بھی دعاؤں کے لئے تاکید کرتا تھا۔اس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مد نظر تھا اور اس کے زائل ہو جانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔چنانچہ اس امر کے متعلق مختلف ذی اثر احمدیوں سے میں نے گفتگوئیں کیں۔عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے مقر تھے اور نبوت مسیح موعود کے قائل تھے ، یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جاسکتی جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوں۔کیونکہ اس سے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ خدانخواستہ حضرت خلیفتہ اسیح کی وفات پر اگر فتنہ کا اندیشہ ہو۔تو ہمیں خواہ وہ لوگ تھوڑے ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی لینی چاہئے کیونکہ میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کریں گے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا اور جب میں ان میں سے کسی کی بیعت کرلوں گا تو امید ہے کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت اختیار کر لیں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جب کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہیں ، میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹہ کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر میں نے ان کو منوالیا کہ ہمیں اس بات کے لئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔“ آئینه صداقت (ص۱۷۸/۱۷۹) بر روایت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی حضرت مولوی صاحب بیان فرماتے تھے۔ان ایام میں حضرت میاں صاحب یعنی سید نا محمود منطق پڑھا کرتے تھے۔اوّل اوّل ہم جنگل کو سیر کی غرض سے باہر نکل جایا کرتے۔جہاں سبق کی بجائے امر خلافت کا ذکر رہتا۔میری اپنی رائے یہی تھی اور میرے ساتھ میری خیال کی مؤید ایک بڑی جماعت تھی کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء میں سے کسی کی بیعت ہرگز نہ کرنی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے میں خصوصیات سلسلہ مٹ جائیں گی۔جماعت کا وجود قائم نہ رہ سکے گا اور ہم لوگ اپنا امتیاز کھو کر غیروں میں مل کرنا بود و معدوم ہو جائیں گے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ غرض و غایت اور مقصد جو ہمیں دوسروں سے الگ اور ممتاز کے کے ایک جماعت قاہم کرنے میں پنہاں تھا ہم ضائع کر بیٹھیں گے۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب میری رائے کے خلاف ہوتے اور فرماتے۔