اصحاب احمد (جلد 5) — Page 267
۲۷۱ حضرت کی واپسی پر میں کچھ آگے بڑھا جس پر آپ نے فرمایا : - مولوی محمد علی صاحب کہتے تھے کہ آپ جانتے ہیں کہ جماعت میں اختلاف موجود ہے دو گروہ بن گئے ہیں اور کوئی بھی دوسرے کے ہاتھ پر جمع ہونے اور بیعت کرنے کو تیار نہیں۔اس لئے ہمیں چاہیئے کہ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔بلکہ چند ماہ تو قف کریں اور بیرونی جماعتوں کو اطلاع دے کر کسی مقررہ تاریخ پر جمع کرنے کا انتظام کر کے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا جائے وغیرہ۔فرمایا میں نے مولوی صاحب کو یہ جواب دیا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ ہم میں ایسا اختلاف موجود ہے کہ کوئی فریق دوسرے کی بیعت کرنے کو تیار نہیں۔آپ اپنے آدمیوں میں سے کسی ایک کو مقرر کر لیں۔میں اس کی بیعت کرتا ہوں۔میں نے ہر چند زور دیا، سمجھایا اور بار بار کہا۔مگر مولوی صاحب انکار ہی کرتے اور کہتے رہے کہ ” آپ یونہی کہتے ہیں یہ بات ناممکن ہے۔اور یہ سارا وقت اسی بحث اور تکرار میں خرچ ہوا۔میں نے بار باران کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں آپ میں سے ہر کسی کی بیعت کرنے کو تیار ہوں جسے آپ منتخب کریں اور نہ صرف میں تنہا بیعت کروں گا بلکہ میرے سارے ساتھی میرے ساتھ ہی بیعت کر لیں گے۔کوئی تخلف ہوگا نہ انکار۔مگر مولوی صاحب آخر تک اسی بات پر اصرار کرتے رہے کہ یہ ممکن نہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہو سکے گا۔اور آخر میں اپنی وہی تجویز دہرائی کہ فیصلہ میں جلدی نہ کیجائے۔کیونکہ چند ماہ کا وقفہ دے کر مقررہ تاریخوں پر جماعت کو جمع کر کے مشورہ اور مشورہ کے بعد فیصلہ کیا جائے۔سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب بار بار کہنے اور یقین دلانے کے باوجود مولوی صاحب اپنے ہی خیال پر جمے رہے اور میری پیشکش کو نا ممکن ، نا قابل عمل اور خیالی بتاتے رہے تب میں نے آخر میں ان سے یہ کہا کہ :- مولوی صاحب ! آپ اور میں دونوں جماعت کے فرد ہیں۔ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم بطور خود کوئی فیصلہ کر کے قوم کو اس کا پابند ٹھہرائیں۔لہذا بہتر ہے کہ آپ اپنے دوستوں سے مشورہ کر لیں اور میں اپنے احباب سے مشورہ کر لیتا ہوں۔اگر میرے دوستوں نے آپ کی تجویز مان لی تو بس جھگڑا ختم۔ہم آپ کی تجویز کے مطابق عملدرآمد کرلیں گے اور اگر نہ مانا تو ایک اختلاف کی صورت قائم رہے گی۔اسی طرح آپ کے دوستوں نے اگر میری تجویز کے مطابق یہ قبول کر لیا کہ ایک واجب الاطاعت خلیفہ ہونا چاہئے اور فوری طور پر اس کا تقرر و انتخاب لازمی ہے تب بھی قصہ ختم اور معاملہ صاف اور اگر انہوں نے میری اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور آپ کی تجویز کے مطابق کسی دوسرے وقت جماعت کے اجتماع اور مشورہ پر معاملہ کو اٹھا رکھنے کا فیصلہ کیا تب بھی