اصحاب احمد (جلد 5) — Page 264
۲۶۸ حکیم غلام محمد صاحب امرتسری نے اس کی دو قلمیں بنائیں اور میں نے حضور کی خدمت میں ایک قلم پیش کی۔حضور نے وصیت تحریر فرمائی اور مولوی محمد علی صاحب کو بلوایا۔مولوی صاحب سرہانے کی طرف کرسی پر بیٹھ گئے۔حضور نے انہیں وصیت دی مولوی صاحب نے پڑھ لی تو دریافت فرمایا آیا درست ہے۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے۔پڑھی جاتی ہے حضور نے ان سے تین بار پڑھوائی اور پوچھا کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے کوئی بات باقی نہیں۔پھر حضور نے یہ وصیت حضرت نواب صاحب کو دی اور فرمایا کہ یہ ہماری امانت ہے جو آپ کے پاس رہے گی۔نواب صاحب کے عرض کرنے پر حضور نے اس پر دستخط کئے اور پھر نواب صاحب نے اس پر احتیاطا حضرت میاں صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور بعض اور دوستوں کے دستخط کروا کے لفافہ بند کر کے اپنے پاس رکھا۔‘ (م) محترم مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ان ایام میں طبائع میں جوش اور فکر اور خلجان اور ہونے والے خلیفہ کے متعلق خیال زوروں پر تھا۔ان دنوں میں حضرت میاں صاحب کو منطق پڑھاتا تھا۔ابتداء میں ہم جنگل کی سیر کے لئے نکل جاتے اور وہاں بجائے سبق کے خلافت کے متعلق ذکر ہوتا رہتا۔(م) ایک ایسی ہی سیر اور حضرت مولوی صاحب کی خلافت کے متعلق رائے کا ذکر حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتے ہیں:- چونکہ حضرت خلیفہ اسیح کی طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنے والے اس بارہ میں الحکم مورخہ ۱۴-۳-۷ میں مرقوم ہے :- د ۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد نماز عصر یکا یک آپ کو ضعف محسوس ہونے لگا۔اسی وقت آپ نے مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو حکم دیا کہ قلم دوات لاؤ۔چنانچہ سید صاحب نے قلم دوات اور کا غذ لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے لیٹے ہوئے ہی کاغذ ہاتھ میں لیا اور قلم لے کر لکھنا شروع کیا۔۔۔۔اولا آپ نے مختصر سا حصہ وصیت کا لکھا لیکن چونکہ قلم درست نہ تھا۔دیسی قلم منگوایا گیا۔آپ نے ایک وصیت اپنے قلم سے تحریر کر دی اور مولوی محمد علی صاحب کو دی کہ اسے سنادیں۔چنانچہ انہوں نے بآواز بلند اسے پڑھ کر سنا دیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ نواب صاحب کے سپرد کر دو۔وہ اسے محفوظ رکھیں گے۔نواب صاحب نے عرض کیا کہ اس پر دستخط کرالئے جاویں اور اس مطلب کے لئے وصیت پھر حضرت کی خدمت میں پیش کی گئی۔آپ نے اس پر دستخط کر دیئے۔" (ص ۵) اس کا ذکر اصحاب احمد جلد دوم حاشیہ ص ۳۴۸، ۳۲۹، ۳۶۸ میں بھی ہے۔