اصحاب احمد (جلد 5) — Page 254
۲۵۸ ان لوگوں کی از سرنو بیعت لیکن پھر بھی مخالفت پر قائم رہنا ان لوگوں کے پیدا کر دہ سوال کہ انجمن حاکم ہے یا خلیفہ کی وجہ سے ہی حضرت میر محمد اطلق صاحب نے اس مسئلہ کے متعلق کچھ سوالات حضرت خلیفہ اسیح اول کی خدمت میں لکھ کر پیش کئے تھے۔حضور نے مولوی محمد علی صاحب کو یہ سوالات دیئے۔انہوں نے جو جواب دیا اس سے حضور بہت حیران ہوئے۔انہوں نے لکھا کہ خلیفہ کا کام سوائے بیعت لینے کے اور کچھ نہیں اور حضور نے قادیان اور باہر کے احباب کو جواب کے لئے یہی سوال بھجوائے۔لاہور کے اکثر احباب نے اس بات کی تائید میں دستخط کئے کہ انجمن حاکم ہے اس کا علم ہونے پر قادیان کے بعض دوست شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے مکان پر جمع ہوئے۔بیالیس میں سے چالیس نے خلیفہ کے حاکم ہونے کی تائید کی اور دو نے مخالفت۔۳۱ / جنوری ۱۹۰۹ ء اس فیصلہ کے لئے مقرر ہوئی۔خواجہ صاحب کے ہمنوا بھی کثرت سے آئے۔باہر کے دوستوں کو ان لوگوں کی طرف سے یہ سمجھایا گیا تھا کہ اگر اس وقت تمہارا قدم پھسلا تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔اس لئے لوگوں میں بہت جوش تھا۔حتی کہ بعض لوگ اس امر پر آمادہ تھے کہ حضرت خلیفہ اول نے خلاف فیصلہ کیا تو انہیں معزول کر دیا جائے گا۔صبح کی نماز حضور نے پڑھائی۔جوان تاثرات کی وجہ سے سوز و گداز سے پر تھی۔بالخصوص جب آپ نے سورۃ البروج تلاوت کی اور آیت اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤ مِنتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ بقیہ حاشیہ مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل امیر مقامی قادیان نے خاکسار کے استفسار پر بتایا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے مردانہ حصہ کے نچلے صحن سے او پر مردانہ حصہ کی چھت تک جانے کے لئے چوبی زینہ تھا اور چھت پر پھر چوبی زینہ تھا۔جس سے دار ا مسیح کے حصہ بیت العافیت“ کے نیچے واقع کمرہ میں جو حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کا سامان کا کمرہ تھا۔داخل ہوتے تھے۔یہ کمرہ خلافت ثانیہ کے آغاز میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دفتری کام کرنے کا کمرہ تھا اور ڈاک آنے پر حضور کی خدمت میں یہاں پیش کی جاتی تھی اور ہم بھی دوڑ کر آ جاتے تھے۔نا معلوم کریں کن لوگوں نے خلافت کی بیعت کی ہے۔مکرم صاحبزادہ مرز وسیم احمد صاحب بتلاتے ہیں کہ اسی کمرہ میں میری والدہ ماجدہ (حضرت سیدہ ام وسیم احمد صاحب) کو۔کے وقت رکھا گیا تھا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اس کمرہ کا در جو بند کیا جا چکا ہے اب بھی دیوار میں نظر آتا ہے۔اس کے متعلق خاکسار نے اصحاب احمد جلد اول میں حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی کے سوانح میں حاشیہ میں ذکر کیا تھا لیکن کتابت میں وہ حاشیہ نامکمل رہ گیا۔