اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 253 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 253

۲۵۷ فتنہ کے متعلق حضرت میاں صاحب کی رؤیا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی رقم فرماتے ہیں:۔میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔نامکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے۔کڑیاں رکھی جا چکی ہیں۔مگر و پر تختیاں نہیں رکھی گئیں اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے ان کڑیوں پر کچھ بھو سا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد الحق صاحب۔۔۔کھڑے ہیں۔میر محمد الحق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھوسا جلایا تو جائے گا ہی مگر ابھی وقت نہیں۔ابھی نہ جلائیں۔ایسانہ ہو بعض کڑیاں بھی ساتھ ہی جل جاویں۔اس پر وہ اس ارادہ سے باز رہے اور میں اس جگہ سے دوسری طرف چل پڑا۔تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ مجھے کچھ شور معلوم ہوا۔مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر صاحب بے تحاشہ دیا سلائیاں نکال کر جلاتے ہیں اور اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔ایک دیا سلائی جل گئی اور اس سے انہوں نے بھو سا کو آگ لگا دی۔میں دوڑ کر آگ میں کود پڑا اور آگ کو بجھا دیا۔مگر اس عرصہ میں کہ اس کے بجھانے میں کامیاب ہوتا چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔میں نے یہ رویا مگر می مولوی سید سرور شاہ صاحب سے بیان کی۔انہوں نے مسکرا کر کہا کہ مبارک ہو کہ یہ خواب پوری ہوگئی ہے۔کچھ واقعہ انہوں نے بتایا۔مگر یا تو پوری طرح ان کو معلوم نہ تھایا وہ اس وقت بتا نہ سکے۔میں نے پھر یہ رویا لکھ کر حضرت خلیفتہ ایسے" کی خدمت میں پیش کی۔آپ نے اسے پڑھ کر ایک رقعہ پر لکھ کر مجھے جواب دیا کہ خواب پوری ہو گئی۔میر محمد الحق صاحب نے چندسوال لکھ کر دیے ہیں۔جن سے خطرہ ہے کہ شور نہ پڑے اور بعض لوگ فتنہ میں پڑ جا ئیں ہیں آئینه صداقت ص ۱۲۹-۱۳۰۔مولوی سرور شاہ صاحب نے بھی میر محمد الحق صاحب والے اعتراضات کا ذکر کر کے بتایا تھا کہ میرے نزدیک یہی وہ آگ ہے جس کے نتیجہ میں بعض شہتیروں کا جل جانا لازمی ہے۔اس بیان سے حضرت میاں صاحب کو سخت صدمہ ہوا جس کی وجہ سے آپ نے کتاب جو پڑھنے کے لئے کھولی ہوئی تھی بند کر دی اور کچھ نہ پڑھا۔(بیان مولوی صاحب روایت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مندرجہ الحکم جو بلی نمبر ص ۲۹ ،۳۰) حضرت مولوی صاحب بتاتے تھے کہ حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ کی طرف کے بالا خانہ میں حضور نے یہ رویا سنا یا تھا۔جب کہ میں حسب معمول صبح پڑھانے گیا تھا۔اس وقت اس بالا خانہ کو باہر کی طرف سے سیڑھیاں چڑھتی تھیں۔