اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 255 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 255

۲۵۹ تین بارڈ ہرائی تو آہ و بکا اور چیخ و پکار سے گہرام برپا ہو گیا اور تمام نیک لوگوں کے دل رحمت الہی کے نزول سے دھل گئے ان لوگوں کی حالت قابل ملاحظہ ہے کہ نماز کے بعد حضور گھر چلے گئے۔تو خواجہ کمال الدین صاحب نے حضور کی خدمت میں یہ بات پہنچائی کہ حضور کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔سب لوگ سمجھ گئے ہیں کہ انجمن حاکم ہے۔حضور مسجد مبارک کی سقف پر تشریف لائے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی کوٹھڑی کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہاری بنائی ہوئی مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوتا۔تقریر کے بعد مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی دوبارہ بیعت لی اور توبہ کرائی جسے یہ لوگ اپنی ذلت کو مٹانے کے لئے بیعت ارشاد قرار دیتے ہیں۔بیعت کر کے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب سے کہا کہ آپ نے یہ ذلت کروائی ہے۔اب میں یہاں نہیں رہ سکتا۔باہر جا کر کسی جگہ گمنامی میں زندگی کے دن گزاروں گا۔خواجہ صاحب کئی روز تک قادیان میں ٹھہرے رہے اور اپنے ساتھی کو سمجھا بجھا کر قادیان نہ چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔حضرت خلیفہ اول جیسے شفیق نے ان لوگوں کی اصلاح کی خاطر حکم دیا کہ ان باتوں کا اخبار میں ذکر نہ کیا جائے اور متعلقہ کا غذات جلا دئیے جائیں۔(م) مولوی محمد علی صاحب کو جواب دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ انجمن بطور مشیر کے ہوسکتی ہے نہ کہ خلیفہ پر حاکم اور وَشَاوِرُ هُمْ فِي الْأَمْرِ ۚ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ کی رو سے انجمن کا فیصلہ رد ہوسکتا ہے۔ان دنوں لڑکی کی خلافت کی بات بھی چل رہی تھی۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ میں سلسلہ احمدیہ کے متعلق دریافت کر رہا ہوں نہ کہ لڑکی کے متعلق۔تو حضور نے فرمایا کہ لڑکی ہو یا غیر ٹر کی۔جو قرآن مجید کے خلاف کرے گا تباہ ہو گا۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ یورپ کی ترقی یافتہ اقوام اس نظریہ کو قبول نہیں کریں گی۔تو حضور نے فرمایا کہ یورپ نہیں مانے گا تو اللہ تعالیٰ خود منوا لے گا۔جس ذات نے ایسا حکم دیا ہے اسے اس کو منوانے کی طاقت بھی ہے۔(م) حویلی کا واقع مشہور ہے کہ حکیم فضل الدین صاحب نے ایک حویلی کسی تنگدست ہندو سے ستے داموں سے خرید لی تھی۔حکیم صاحب نے اسے وصیت میں دے دیا۔اس ہندو نے یہ بات حضرت خلیفہ اسی اول کی خدمت میں عرض کی اور چاہا کہ رعایت کے ساتھ اسے واپس دے دی جائے۔حضور نے فرمایا کہ اس پر ظلم ہوا تھا رعایت کے ساتھ اسے واپس دے دی جائے۔لیکن وہ انجمن جو حضور کی اطاعت اور احکام کی تعمیل کا وعدہ کر چکی تھی باوجود حکم کے تعمیل کرنے سے رکی رہی اور اپنے تئیں زیادہ دیانتدار اور تقولی شعار بجھتی تھی اور کہتی تھی کہ الحکم جوبلی نمبر ۲۹-۳۰ میں بھی بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی طرف سے نیز آئینہ صداقت ۱۳۰ تا ۱۳۷ میں اس کا ذکر ہے۔