اصحاب احمد (جلد 5) — Page 252
۲۵۶ وو میاں ! ہم سے ایک غلطی ہو گئی ہے جس کا تدارک اب سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ہم کسی ڈھنگ سے خلیفہ کے اختیارات کو محدود کر دیں۔وہ بیعت لے لیا کریں۔نماز پڑھا دیا کریں۔خطبہ نکاح پڑھ کر ایجاب و قبول اور اعلان نکاح فرما دیا کریں۔یا جنازہ پڑھ دیا کریں وبس۔“ خواجہ صاحب کی بات حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے سنی اور جواب میں فرمایا :- خواجہ صاحب ! ہم کون ہیں جو خلیفہ کے اختیارات کو تقسیم کریں۔خلیفہ بن جانے کے بعد وہ حاکم ہیں نہ کہ ہم۔ان باتوں کا وقت وہ تھا جب آپ لوگ میرے پاس آئے تھے اور خلافت کے متعلق مجھ سے مشورہ طلب کیا تھا۔آپ کو یا د ہوگا میں نے آپ سے کہا تھا کہ اول تو میری عمر ہی ایسے اہم امور میں کوئی مشورہ دینے کے لائق نہیں۔دوسرے میرا دماغ بھی اس صدمہ عظیمہ کی وجہ سے کام نہیں کرتا۔مگر باوجود اس کے میں اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے کیونکہ جب بیعت کر لی اور ہم بک گئے تو پھر سوائے اس کے کہ ہم ہر رنگ میں ان کی اطاعت کریں چارہ نہ ہوگا۔مگر آپ لوگوں نے اس وقت اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ ضرور ہونا چاہیئے۔خلیفہ کے بغیر جماعت کا شیرازہ قائم نہ رہ سکے گا۔آخر اس پر اتفاق ہو گیا اور ہم سب نے برضاء ورغبت ایک شخص کی بیعت کرلی اور اس کے ہاتھ پر پک چکے تو اب ہم کون ہیں جو اس کے اختیارات میں دخل دیں۔یا ان کو محدود کریں؟ یہ جواب حضرت فضل عمر کا خواجہ صاحب نے سُنا اور خاموش رہ گئے۔انہوں نے کسی امید پر بات بڑی حکمت اور موقع شناسی سے شروع کی تھی۔مگر حضرت محمود کے جواب نے ان کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں اور آخر وہ چہل قدمی بھول کر ساتھیوں سمیت شہر میں آگئے۔سید نا محمود الدار میں تشریف لے گئے اور خواجہ صاحب وغیرہ اصحاب مولوی محمد علی صاحب والے کمرہ مسجد میں داخل ہوئے تو خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے :- ”مولوی صاحب ! میاں سے تو نامید ہو جاؤ۔وہ تو اب ہمارے ہاتھ سے گیا۔یہ صلاح ٹھہری کہ خواجہ صاحب جماعتوں کا دورہ کریں اور مولوی صدرالدین صاحب قادیان کے لوگوں میں اپنے خیالات پھیلائیں اور جماعت کے خاص خاص نمائندوں کو بلا کر ایک دعوت دے کر ان پر اثر ڈالا جائے۔خواجہ صاحب اور مولوی صدر الدین صاحب نے اپنا اپنا کام شروع کیا اور ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ پر بھی اپنی تقریروں میں انہی خیالات کا اظہار کیا۔۲۳۶ الحکم جو بلی نمبر ص ۲۶۔اس کا ذکر آئینہ صداقت، ص ۱۲۷۔۱۲۸ میں حضور ایدہ اللہ نے کیا ہے۔