اصحاب احمد (جلد 5) — Page 251
۲۵۵ خدا کی طرف سے ایک انسان منادی بن کر آیا جس نے لوگوں کو خدا کے نام پر بلایا۔ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے گرد جمع ہو گئے۔مگر اب وہ ہم کو چھوڑ کر اپنے خدا کے پاس چلا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ خواجہ صاحب کا انداز بیان طریق خطاب اور تقریر کچھ ایسا درد بھرا ، رقت آمیز اور زہرہ گداز تھا کہ ساری اس پر ایک سناٹا چھا گیا۔سکتہ کا عالم اور خاموشی طاری ہوگئی۔آخر شیخ رحمت اللہ صاحب نے سکوت کو توڑا اور کھڑے ہو ( کر ) ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ مطلب اردو میں یہ ہے کہ ” میں نے قادیان آتے ہوئے راستہ میں بھی بار بار یہی کہا ہے اور اب بھی اسی کو دُہراتا ہوں کہ اس بڑھے کو آگے کرو۔اس کے سوا یہ جماعت قائم نہ رہ سکے گی۔“ شیخ صاحب کے اس بیان پر خاموش رہ کر گویا سبھی نے مہر تصدیق ثبت کی اور سر تسلیم خم کر دیا کسی نے اعتراض کیا نہ انکار۔اس اتفاق کے بعد انہی اصحاب نے مع دیگر اکابر صحابہ و بزرگان جناب سید نا نورالدین اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور درخواست کی۔جو باغ سے شہر تشریف لائے ہوئے تھے۔مگر حضرت ممدوح نے کچھ سوچ اور تر ڈد کے بعد فرمایا کہ میں دعا کے بعد جواب دوں گا۔چنانچہ وہیں پانی منگایا گیا۔حضرت نے وضو کر کے دو نفل نماز ادا کی اور دعاؤں کے بعد فارغ ہو کر فرمایا۔چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر اور ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ یہ مجلس برخاست ہو کر پھر باغ پہنچی جہاں امر خلافت کے متعلق موجودہ جماعت کے تمام مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے انشراح بخش کر خلافت حلقہ پر متفق و متحد کر کے سلک وحدت میں پرو دیا۔۲۳۵ وہی افراد جو حضور کے وصال پر حضرت مولوی نور الدین صاحب کے خلیفہ منتخب کئے جانے سے متفق تھے۔چونکہ دیر سے ان کے قلوب میں مرض تھا۔چھٹے روز ہی وہ اس پر پشیمان نظر آنے لگے۔حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب اس روز کے متعلق بیان کرتے ہیں :- ” ہمارے کرتے دھر تے اور اصحاب حل و عقد پھر قادیان تشریف لائے شہر سے سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو اور مولوی محمد علی صاحب اور بعض اور ہم خیال آدمیوں کو انہوں نے ساتھ لیا اور مزار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جا کر دعا کی کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شہر کو لوٹے۔مگر باغ کے شمال مشرقی کونہ پر پہنچ کر خواجہ صاحب نے مغربی جانب رخ کر لیا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگے ٹہلتے ٹہلتے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مخاطب کر کے بولے :-