اصحاب احمد (جلد 5) — Page 222
۲۲۶ جامعة الواقفین کا رئیس الاساتذہ مقرر ہونا جامعہ احمدیہ سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی آپ کی تعلیمی خدمات تا وفات جاری رہیں۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر کہ ایک تبلیغی نصاب تیار کیا جائے وغیرہ۔ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے حضرت مولوی صاحب پرنسپل صاحبان تعلیم الاسلام کالج و جامعہ احمدیہ و دیگر بعض اصحاب سے اس بارہ میں استمداد کی گئی۔۱۵۰ آپ کو واقفین کی تعلیم و تدریس کے لئے حضور کی طرف سے مقرر کیا گیا اور دیگر اساتذہ بھی مقرر کر کے آپ کو ان کا پرنسپل بنایا گیا۔یہ خاص واقفین جن کا ایک حصہ گریجویٹ تھا اور کچھ مولوی فاضل تھے ان کو جنگ کی وجہ سے باہر بھجوانا نا ممکن تھا۔اس لئے ان کو خاص طور پر علوم اسلامیہ میں ٹریننگ دینے کا پروگرام بنایا گیا اور چونکہ حضور کو اس امر کا احساس تھا کہ قدیمی طرز پر علوم کے ماہر جوان علوم میں الراسخون فی العلم کا درجہ رکھتے ہیں ان میں سے اب صرف حضرت مولوی صاحب باقی ہیں۔اس لئے نئے علماء کو بھی ان علوم میں کمال پیدا کرنے کا سامان ہونا چاہیئے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی وساطت سے دیو بند کے ایک فاضل منطق و فلسفہ کو قادیان میں کچھ عرصہ کے لئے بلایا گیا تھا اور بعض کو دہلی وغیرہ اعلی علمی ترقی کے لئے بھجوایا گیا تھا کہ خاکسار مؤلف کو یاد ہے کہ ان صاحب کی ملاقات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مجلس علم و عرفان میں مسجد مبارک کی چھت پر مغرب وعشا کے درمیان ہوئی تھی اور حضور ان سے ان کی عمر وغیرہ کے متعلق دریافت فرماتے رہے اور ملک سیف الرحمن صاحب (حال مفتی سلسلہ ربوہ) مولوی محمد احمد صاحب جلیل اور مولوی محمد احمد صاحب ثاقب ( کو جو تینوں جامعہ احمدیہ ربوہ میں پروفیسر ہیں) اور چوہدری محمد صدیق صاحب فاضل بی۔اے (لائبریرین خلافت لائبریری ربوہ) کو جو چاروں مجلس افتاء کے بھی ارکان ہیں دہلی وغیرہ اسلامی علوم میں مزید دسترس حاصل کرنے کے لئے بھجوایا گیا تھا اور جن کو عالمگیر جنگ دوم کے اختتام پر فوری طور پر غیر ممالک میں بھیجوانا مقصود تھا ان کا نصاب کم کر دیا گیا تھا۔یہ مجاہدین یورپ پر اسلامی یورش کے لئے تیار کئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی مساعی کامیاب و بابرکت ہوئیں اور یورپ کا اسلام کے متعلق نظریہ تبدیل کرنے میں انہوں نے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے اور مثمر ثمرات حسنہ بنائے اور اپنی رضا کا موجب بنائے۔آمین۔