اصحاب احمد (جلد 5) — Page 221
۲۲۵ کے عہدہ سے ریٹائر ہونے اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مولوی فاضل بی۔اے (آکسفورڈ ) کے پرنسپل جامعہ احمد یہ مقرر ہونے پر جامعہ احمدیہ کے اساتذہ طلبہ کی طرف سے ایک شاندار پارٹی دی گئی جس میں بہت سے احباب کو مدعو کیا گیا۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی از راه نوازش شمولیت فرمائی۔اکل وشرب کے بعد مولوی محمد یا ر صاحب عارف پروفیسر جامعہ احمدیہ نے ایڈریس پیش کیا اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے ایک مختصر تقریر کی۔بعد ازاں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب 66 نے علی الترتیب ایڈریس کے جواب دیئے۔پھر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے تقریر فرمائی اور دعا پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔۱۴۷ (۱۹ مئی ) '' آج بعد نماز مغرب مدرسہ احمدیہ کے صحن میں مدرسہ احمدیہ ( جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل ) اصحاب کی طرف سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔اکل و شرب کے بعد زیر صدارت حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا رروائی شروع ہوئی۔مولوی محمد سلیم صاحب نے تحریری ایڈریس پڑھا جس میں حضرت مولوی صاحب کی خدمات جلیلہ کا ذکر کیا۔بعد ازاں مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری نے بزرگ اساتذہ کے احسانات اور طلباء سے ان کی مہربانیوں کا موثر طور پر ذکر کیا اور ان کا شکر یہ ادا کیا۔پھر حضرت مولوی صاحب نے جواب ایڈریس دیا اور احادیث نبویہ کے واقعات کی روشنی میں تقویٰ کی تلقین کی۔آخر میں حضرت مفتی صاحب نے حضرت مولوی صاحب کی بے لوث خدمات کی تعریف کی۔‘۱۴۸۴ خاکسار مؤلف کے دریافت کرنے پر آپ نے مجھے لکھوایا تھا کہ پنشن پانے پر آپ کو گھر کے اخراجات چلانے میں بہت دقت پیش آئی۔ایک روز آپ نے خواب دیکھا کہ ایک لڑکی چوبارہ پر آپ کی رہائش کے کمرہ میں آئی اور قلیوں کے ذریعہ سامان لائی اور طاق وغیرہ سامان کے ساتھ بھر دیے اس نے بتایا کہ وہ عملی شاہ کی بیٹی ہے۔آپ نے اس خواب کا یہ مطلب سمجھا کہ کسی کام کے عوض میں آپ کو آمد ہو گی۔چنانچہ اسی روز حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد پہنچا کہ آپ تحریک جدید کے واقفین کو تعلیم دیا کریں۔چنانچہ اس کا معاوضہ ملنے لگا۔نیز فرماتے تھے کہ خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے افراد میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جو مالی طور پر آپ کی امداد نہ کرتا ہو۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔اس طرح آپ بفضلہ تعالیٰ فارغ البالی سے گزارہ کرتے رہے۔☆ علی حضرت نواب محمد علی خان صاحب بھی آپ کی خدمت کرتے رہتے تھے۔۱۴۹