اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 223 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 223

۲۲۷ - خدمت بہشتی مقبرہ اور شوری میں شمولیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں ۱۹۰۷ء میں آپ پہلی بار قائم مقام ناظم بہشتی مقبرہ مقرر ہوئے۔پھر ۱۹۱۲ء اور ۱۹۲۰ء میں بھی کچھ عرصہ کے لئے آپ اس کام پر بطور افسر بہشتی مقبرہ متعین ہوئے * * ۱۹۲۵ء میں اگست میں آپ قائم مقام افسر مقرر ہوئے اور اکتوبر میں مجلس کارپرداز بہشتی مقبرہ کے پہلے سیکرٹری کے طور پر آپ کا تقرر عمل میں آیا اور آپ تا وفات گویا اکیس بائیس سال تک اس خدمت پر مامور رہے۔آپ اولین سیکرٹری تھے۔آپ اس صیغہ کے فرائض اپنے اصل فرضِ منصبی تعلیم و تدریس کے ساتھ ادا کرتے تھے۔بعض دفعہ تعلیم و بہشتی مقبرہ کے علاوہ بھی کئی کام آپ کے سپر د ہو جاتے تھے۔آپ نے صیغہ بہشتی مقبرہ کے اعزازی فرائض کو ایسی انتہائی جانفشانی سے سرانجام دیا کہ آپ کی سعی بلیغ سے یہ صیغہ سال بہ سال اوج ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔آپ کی یہ خدمت ہمیشہ یادر ہے گی۔اس دوران میں کچھ عرصہ تک صیغہ تعمیر و صیغہ جائیدا دوصیغہ بہشتی مقبرہ کے ساتھ منضم رہے۔آپ بطور سیکرٹری وغیرہ شوری میں اولین شوری (۱۹۲۲ء) سے تا وفات شرکت فرماتے رہے۔* اس وقت سید محمد احسن صاحب نے ایک ماہ کی رخصت حاصل کی تھی۔فیصلہ مجلس معتمدین نمبر ۲۷۴ مورخہ ۲۶-۵-۰۷ - بدر مورخہ ۰۷-۶ - ۲۷ ص ۱۰ میں قائمقام کی حیثیت سے آپ کا اعلان شائع ہوا۔** فیصله مجلس معتمدین نمبر ۴۷۷ مورخه ۱۶-۱۲-۲۸ والفضل ۱۷-۴ - ۲۸ ص ۵ ماہوار ر پورٹ صدرانجمن مندرجہ پر چہ ہذا و فیصلہ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۰-۹-۲۰ جس کی رو سے قائم مقام افسر بہشتی مقبرہ کے علاوہ قائم مقام جنرل سیکرٹری صد را مجمن احمد یہ کے فرائض بھی آپ کے سپرد ہوئے۔* ( الف ) حضرت چوہدری نصراللہ خان صاحب کی جگہ بمنظوری حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہتعالی آپ کا قائم مقام افسر بہشتی مقبرہ مقرر ہونا (فیصلہ نمبر ۶۲۲ م مورخه ۲۵-۰۸-۱۹) اس حیثیت سے کام کرنے کا ذکر ۱۵۱ پھر ناظر اعلیٰ صاحب کی چٹھی نمبر ۲۷ مورخہ ۳۵-۱۰-۲۲ کی رو سے مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کے صدر ناظر اعلیٰ اور سیکرٹری مولوی صاحب اور دور کن حضرت مولوی صاحب و حضرت مولوی اسمعیل صاحب فاضل مقرر ہوئے۔(ب) ذیل میں آپ کی حسن کارکردگی کی ادنی سی جھلک پیش کرنے کے لئے آپ کے کام کا خلاصہ رقم کیا جاتا ہے۔یہ امر متحضر رہے کہ ۱۹۲۵ء میں آپ کی تقرری کے وقت اس صیغہ کے قیام پر صرف انیس بیس سال کا عرصہ گذرا تھا گویا یہ ابھی عہد طفولیت میں تھا۔اس لئے اس کثیر آمد پیدا کرنے والے صیغہ کے لئے سعی پیہم