اصحاب احمد (جلد 5) — Page 220
۲۲۴ اور نو جوان ایمان وایقان میں اور قربانی اور ایثار کی روح میں دوسروں سے بڑھ کر ہوں۔ان کی نمازیں اور دعائیں دوسروں کی نمازوں اور دعاؤں سے فرق رکھتی ہوں۔ایسے برگزیدہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ خود علم سکھلاتا ہے۔نئے نئے جواب سکھاتا ہے۔ہمارے مبلغ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور داڑھی چھوٹی کرنے پر اتنا زور نہ دیں ان کے بزرگ اپنی بیبیوں کے کم محبوب نہ تھے ان کے اخلاق اعلیٰ ہونے چاہئیں۔ان میں تواضع اور انکساری ہو۔خود پسندی اور کبر و غرور سے بچیں کہ اس سے برکت اُٹھ جاتی ہے۔۱۴۶ ریٹائر منٹ ناظر صاحب تعلیم و تربیت نے رپورٹ کی تھی جو منظور ہوئی کہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ آخر اپریل ۱۹۳۹ء کو ریٹائر ہو جائیں گے۔مولوی صاحب موصوف یکم مئی ۱۹۰۲ء سے کارکن مقرر ہوئے تھے۔ان کی تاریخ پیدائش ۱۰ ستمبر ۱۸۷۳ء ہے زمانہ پنشن بتفصیل مندرجه مسل ۹ ۱ سال ۵ ماہ ہے اور اس لحاظ سے ان کو (۸/ ۴۷ ) ماہوار پنشن کا حق ہے جو منظور فرمائی جائے۔“ ( فیصلہ نمبر ۹ م مورخہ ۳۹-۳-۲۲ ( بقیہ عرصہ ملازمت کا پراویڈنٹ فنڈ دیا گیا ہوگا۔مؤلف ) ملازمت سے آپ کے سبکدوش ہونے کے موقع پر آپ کو دعوت دی گئی۔چنانچہ اس بارہ میں مرقوم ہے:۔(۴ رمئی ) " آج بعد نماز عصر جامعہ احمدیہ کے ہوٹل میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو پرنسپل 66 * آپ کی ریٹائر منٹ اور محترم صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کے پرنسپل جامعہ احمد یہ مقرر ہونے کا ذکر الفضل ۳۹-۵-۳ میں زیرہ مدینہ ای “ ہے۔بقیہ حاشیہ: - (۱۲۹) مولوی نذیر احمد صاحب سیالکوئی فاضل ملازم لا ہور ( برادر مولوی بشیر احمد صاحب فاضل مدرس جاسکے ) (۱۷۰) مولوی نور محمد صاحب فاضل سکنہ کو ریل نزد آسنور ( ضلع اسلام آباد، کشمیر ) (۱۷۱) مولوی نور الحق صاحب فاضل ( سابق مجاہد امریکہ ) (۱۷۲) مولوی ولید اد خان صاحب شہید ( آپ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی تحریک پر ایک طبیب کی حیثیت میں علاقہ یاغستان میں اعلائے کلمتہ اللہ میں مصروف تھے کہ شہید کر دئیے گئے )