اصحاب احمد (جلد 5) — Page 186
190 پڑھائی اور بتقاضائے بشری تیسری رکعت میں دو سجدوں کی بجائے چار سجدے کر گئے۔بعض قریب کے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر اس غلطی کی طرف توجہ بھی دلائی مگر مولوی صاحب نے اس کا خیال نہ کیا اور اپنی یاد کو صحیح سمجھتے ہوئے چار سجدے پورے بقیه حاشیه - (۳۴) تا (۴۰) خطبات جمعه ۲۲-۳-۱۰ ، ۲۶-۷-۹ ، ۲۶-۷-۱۶ ، ۲۸-۴-۱۳ ، ۴-۱-۴ ، ۱۱-۱-۴۶ ، ۱-۴۶- ۱۸) (الفضل) ۲۲-۳-۱۳، ۲۶-۷-۱۳ ، ۱۰-۷-۲۰، ۲۸-۴- ۱۷، ۱۹-۱-۴۶،۱۲-۱-۴۶،۵-۱-۴۶۔سب زیر مدینہ المسیح ) - امام الصلوۃ ہونا: (۱) ۱۸-۹-۳۸ کو سفر پر جاتے ہوئے حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو امیر مقامی اور حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔حضور ۳۸-۹-۲۳ کو واپس تشریف لائے۔۱۰۸ (۲) ۲۰-۵-۳۹ کو سندھ جاتے ہوئے امیر مقامی حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اور امام الصلوۃ حضرت مولوی صاحب کو مقرر کیا گیا۔حضور کی واپسی ۳۹-۶-۸ کو ہوئی۔۱۰۹ (۳) تقرر بشرح صدر -۳۹-۴-۲۹ تا ۳۹-۴-۳۰ به سفر رہا۔۱۱۰ (۴) تقرر بشرح صدر - سفر ۱۴ ، ۱۵ مئی ۱۹۳۹ ء - ۱۱۱ (۵) تقرر بشرح صدر۔۱۱۲ ۳- امامت نماز ہائے جنازہ: (۱ تا ۲۲ الفضل ۱۶-۲-۱۲، ۲۴ - ۷-۳۱ ، ۲۹-۲-۱۲ ، ۳۰-۸-۲۸ ، ۳۱-۱۰-۲۹ ، ۳۷-۹-۳ ، ،۷-۱۱-۴۳،۶-۶-۳۹، ۳۱-۵-۳۹،۲۳ - ۵ - ۳۹ ،۲۰-۹-۳۸ ،۷-۶-۳۸ ،۲۷ - ۲-۳۸،۶-۱-۳۸ ۲۳-۶-۴۴ ، ۱۵-۱۱-۴۴ ، ۴۵ - ۱۲- ۷ ، ۴۵ - ۲۱-۱۲ ، ۱۴-۱-۴۶۔(سارے زیر ير مدينة المسيح ، ۲۳-۶۰-۴۴ ص ۳۲ ۴ - امامت نماز استسقاء: ،(" ۳۱-۱-۴۶ کو ۱۱:۳۰ بجے دن مرد و خواتین کے بہت بڑے مجمع کے ساتھ تعلیم الاسلام کالج کے وسیع میدان میں آپ نے نماز استسقاء پڑھائی۔۱۱۳