اصحاب احمد (جلد 5) — Page 187
191 کر گئے اور جیسا کہ شریعت کا مسئلہ ہے ان کی اتباع میں ہم سب کو بھی چارسجدے ہی کرنے پڑے۔“ ۱۱۴ مجھ مؤلف کو انہی دنوں مؤذن مسجد مبارک نے بتایا کہ حضرت مولوی صاحب بہت بیمار تھے اس لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تاکیدی طور پر مجھے فرمایا کہ اب مولوی صاحب کو امامت کے لئے نماز کی اطلاع نہ دیا کروں۔ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ایک دوست نے خاکسار مؤلف کو بتایا کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور تھرما میٹر سے دیکھا تو ایک سو پانچ درجہ بخار تھا۔خاکسار مؤلف وفات سے چند روز قبل تک کئی بار آپ کے سوانح کے تعلق میں آپ کے مکان پر حاضر ہوتا رہا۔ایک دفعہ میں نے عرض کی کہ آپ کو ڈاکٹری ہدایت ہے کہ پوری طرح آرام فرما ئیں۔آپ کو سخت ضعف ہے لیکن آپ پھر بھی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں ( یہ مرض الموت کا زمانہ تھا۔وفات سے ڈیڑھ دو ہفتے قبل کی بات ہے۔ضعف کے باعث آپ سارا دن لیٹے رہتے تھے اور نماز کے وقت اپنے بقیہ حاشیہ: - - سنگ بنیا درکھنا: (۱) دار الرحمت کے ایک مکان پر ذیل کی عبارت اس وقت تک بھی کندہ ہے ” هذا من فضل ربی “۔اليس الله بکاف عبده - مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۲۶ء کو حضرت مولوی سید محمد سر درشاہ صاحب و حضرت مولوی شیر علی صاحب نے سنگِ بنیا درکھا۔یہ مکان منظور منزل مملوکہ منشی محمد عبد الحق صاحب قانونگو مہاجر کے بالکل متصل جانب غرب ہے معلوم نہیں کن صاحب کا ہے۔(۲) ڈاکٹر سید رشید احمد صاحب مرحوم کے مکان کی دار البرکات میں بنیا د رکھی۔۱۱۵ - متفرق (۱) ۱۹۱۸ء میں حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ علیل ہو گئے تھے اس تعلق میں مرقوم ہے۔۲۲ را پریل کو احباب قادیان نے ظہر کے وقت مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر جناب مولوی سرور شاہ صاحب کی اقتداء میں دو نفل پڑھے اور بہت دیر تک حضور کی صحت کے لئے دعا کی گئی۔۱۱۲ صدقہ بھی دیا گیا۔(۲) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ قبول اسلام کرانے کے لئے غیر مسلموں کو آپ کے سپر دفرماتے تھے مثلاً الفضل ۶-۹-۲۷ میں زیرہ مدینہ اسیح ، ایک سکھ کے آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام کا ذکر ہے۔