اصحاب احمد (جلد 5) — Page 127
۱۳۱ ڈیوڑھی بان معہ اہل و عیال اور آپ ایک ہی حصہ میں رہتے تھے۔حضرت ام المومنین (اعلی الله درجاتها في الجنة ) چاہتی تھیں کہ مولوی صاحب کا رشتہ قدرت اللہ خان صاحب کے ہاں ہو جائے۔چونکہ مولوی صاحب بقیہ حاشیہ: - سے ۱۹۰۱ء ہے (اس کی تفصیل آگے آتی ہے ) (ب) ۱۹۳۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک مشتر کہ دعوتِ طعام کا عید کے موقعہ پر انتظام کیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی انتظام ۱۹۳۵ء میں عید الفطر کے لئے بھی کیا گیا۔اس انتظام کی تفصیل طبع کی گئی۔چنانچہ صحابہ کرام کی بلا ادائیگی قیمت شرکت طعام کا موقع دیا گیا تھا۔اس لئے ان کی فہرستیں ناظم صاحب تعلیم و تربیت (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) نے اپنی ذاتی نگرانی میں محلہ جات قادیان کے صدر صاحبان سے اس مقصد کے لئے مطبوعہ وغیر مطبوعہ اوراق پر تیار کرائی گئیں۔صحابہ کرام کے اسماء مع ولدیت اور تاریخ بیعت اور تاریخ زیارت حضرت اقدس انفرادا دریافت کر کے درج کی گئیں۔عید پر باہر سے آمدہ مہمانوں میں سے جو صحابی تھے نام رقم کئے گئے۔جن سے دریافت کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔یا ان سے پوری معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ان کے خانے خالی چھوڑے گئے ہیں۔اس فہرست میں آپ کے متعلق مرقوم ہے: ” میری بیعت کے بعد لیکھر ام مرا۔“ ظاہر ہے کہ یہ بات خود آپ ہی بتا سکتے تھے۔تاریخ ہلاکت لیکھرام ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء ہے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی کے بیان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے جو فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب ۱۸۹۷ء میں مشن کالج پشاور میں ملازم تھے اور احمدی تھے۔(الفضل ۵۴-۷-۲۹ صفحہ ۶ کالم۳) حضرت مرزا محمد رمضان علی خان صاحب سکنہ پشاور ” حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کشمیری کے ذریعہ ۱۸۹۷ء میں احمدی ہوئے ( تاریخ احمد یہ سرحد مؤلفہ حضرت قاضی صاحب موصوف صفحہ ۱۷) نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کو گو معین تاریخ بیعت یاد نہ تھی لیکن ہلاکت لیکھرام جیسا عظیم الشان روح فرسا اور وحشت ناک سانحہ ضرور یاد تھا اور یہ پر عظمت واقعہ اپنوں کو کیا بیگانوں کو پینسٹھ سال ہونے پر نہیں بھولا۔آریہ سماجی برابر ہر سال جلسے کرتے اور سوگ مناتے ہیں گویا مولوی صاحب کو یہ بات یاد تھی کہ بیعت کے بعد قریب میں واقعہ لیکھر ام ہوا تھا۔آپ کا حافظہ واقعات اور کتب کے متعلق آخر عمر تک قابل رشک طور پر اعلیٰ اور بے نظیر رہا۔واقعات کی جزئیات تک کے بیان میں کبھی سرمو فرق نہ پایا جاتا تھا۔سو اگر واقعہ لیکھرام سے بہت پہلے آپ نے بیعت کی