اصحاب احمد (جلد 5) — Page 126
نکاح ثانی * ہجرت کے بعد قیام قادیان میں ایک دفعہ طاعون کے ایام میں آپ کو در مسیج میں ٹھہرایا گیا۔قدرت اللہ صاحب دار مسیح کی حفاظت کا وعدہ ۵ مئی ۱۹۰۲ء کے الہام اني أحَافِظ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِيْنَ عَلَوْا بِاسْتِكْبَارٍ میں دیا گیا تھا ( الحکم ۰۲-۵-۱۰) اور حضور نے بالوضاحت اس کا ذکر کشتی نوح میں فرمایا ( ص۲) جو ۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع فرمائی اور ۲۸ مارچ ۱۹۰۳ء کو شادی ہوئی۔اس درمیانی عرصہ میں آپ کا قیام دار مسیح میں قبل شادی ہو گا۔بقیہ حاشیہ چلے گئے جہاں مشن کالج میں آپ ملازم ہوئے اور پھر وہاں سے قادیان ہجرت کر آئے۔(ص۶۰) (الف) بیعت سے قبل آپ نے آئینہ کمالات اسلام (جس کی تاریخ اشاعت فروری ۱۸۹۳ء ہے ) پڑھی تھی بعض کا خیال ہے کہ آپ کی بیعت ۱۸۹۳ء کی ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں۔خواہ آپ نے ہی کبھی یہ سن بیعت بتایا ہو۔کیونکہ حضرت اقدس کے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ لدھیانہ والے مباحثہ ( جو جولائی ۱۸۹۱ء میں ہوا ) کے بعد آنے والے رمضان شریف میں ( جو ۳۰ / مارچ تا ۲۸ اپریل ۱۸۹۲ء تھا ) آپ لاہور سے دیو بند تعلیم کے لئے منتقل ہوئے تھے۔(ص۳۰، ۴۷ ، ۴۸) تاریخ آغاز رمضان شریف بعد جولائی ۱۸۹۱ء عرصہ قیام دیو بند (ص ۳۰ تا ۳۴) عرصہ معلمی در سهار نپور ( ص ۳۷، ۳۸) (ص ۵۴) = = = ۳۰ / مارچ ۱۸۹۲ء ایک سال یعنی ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء (اندازاً) ۲ سال یعنی تا ۳۰ / مراچ ۱۸۹۵ء (اندازاً) بعد ازاں کچھ عرصہ وطن میں والد صاحب کو قرآن مجید پڑھانا ( ص ۳۸) ایبٹ آباد میں شاگردوں کو اس شرط پر قرآن مجید پڑھانا شروع کیا کہ وہ جلد ختم نہ کرنا چاہیں۔آپ نے کہا کہ میں تحقیق سے پڑھاؤں گا۔(ص۵۳،۵۲) آپ کے پھوپھی زاد بھائی کا بیمار ہو کر ایبٹ آباد میں داخل ہسپتال ہونا اور آپ کا وہاں ہونا۔ایک سال یعنی تا ۳۰ / مارچ ۱۸۹۶ء (اندازاً) گویا آپ کا ۱۸۹۳ ء کا سن بیعت ہونا ناممکن ہے اور مزید ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ کا بیان ہے کہ آپ اعلانِ بیعت کے دوسرے روز پشاور جا کر ملازم ہو گئے اور وہاں سے اڑھائی سال بعد ہجرت کی۔اس طرح تو بیعت ۱۸۹۳ء سمجھتے ہوئے آپ کی ہجرت ۱۸۹۵ ء تا ۱۸۹۶ء بنتی ہے جو قطعا نا درست ہے بلکہ یقینی شواہد کی رو =