اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 128 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 128

۱۳۲ کی رائے تھی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بغیر پوچھے از خود ہی ارشاد فرما ئیں تو مجھے کوئی عذر نہ ہوگا۔اس لئے یہاں رشتہ نہ ہوا کہ ایک روز عبداللہ صاحب عرب کے لئے رشتہ کا ذکر ہورہا تھا۔حضور علیہ السلام نے بعض اہلیہ دوم حضرت مولوی صاحب نے ۳۰ /اکتوبر ۱۹۵۰ء کو ایک مکتوب اپنی قلم سے تحریر کیا تھا اور بعد ازاں وہ اپنے فرزند سید مبارک احمد صاحب سے جوابات لکھواتی رہی ہیں۔اس کتاب میں ان کے بیانات و روایات انہی خطوط سے ماخوذ ہیں۔بڑھاپے کی عمر میں بھی آپ کا حافظہ بہت صحیح ہے جیسا کہ ان کے بیان کردہ حقائق سے ظاہر ہے۔بقیہ حاشیہ: - ہوتی تو آپ اس زمانہ کی حضور کی کسی تصنیف کا ذکر کر سکتے تھے اور بھی بہت سے عظیم الشان واقعات ونشانات تھے کہ جن کو آپ جیسا بلند پایہ عالم نہیں بھول سکتا تھا۔خواہ آپ کو تاریخ و سال نہ یاد ہوتے۔مثلاً مباحثہ عبداللہ آتھم (۱۸۹۳ء) آنحضرت صلعم کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہی رمضان شریف میں خسوف و کسوف (اپریل ۱۸۹۴ء)۔مذہبی مباحثات کے متعلق گورنمنٹ کو میموریل اور چولہ بابا نانک کے انکشاف والا سفر ڈیرہ بابا نانک (۱۸۹۵ء) تحریک تعطیل جمعہ کے متعلق حکومت کو میموریل۔جلسہ اعظم مذاہب جس میں حضرت اقدس کا مضمون مطابق پیشگوئی تمام مذاہب کے مضامین پر غالب رہا۔(۱۸۹۶ء) اگر آپ کی بیعت ۱۸۹۶ء کے اواخر میں ہوتی تو آپ جلسہ اعظم مذاہب کا ذکر فرماتے جو ۲۶ تا ۲۹ دسمبر منعقد ہوا تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ نے نشان لیکھرام کی تاریخ 4 مارچ ۱۸۹۷ء سے قبل قریب میں ہی بیعت کی ہوگی۔خلافت لائبریری ربوہ میں تین صد ترانوے صحابہ کرام کے کوائف ایک رجسٹر میں مرقوم ہیں جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی تحریک پر ۱۹۳۸ء میں حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے جمع کئے تھے۔اس میں حضرت مولوی صاحب کا نمبر ۱۷ ہے جہاں آپ کی تاریخ بیعت ۱۸۹۳ء اور تاریخ زیارت ۱۸۹۴ ء اور اس پر آپ کے۳۸-۱-۱۵ کے دستخط رقم ہیں۔مجھے اس امر کی اطلاع مسودہ کا تب کے سپرد کرنے کے بعد ملی ہے اور میں اس حصہ کا اضافہ کر رہا ہوں جو اموراو پر پہلے درج ہو چکے ہیں ان سے اس بیان کے سہو ہونے کا علم ہو جاتا ہے۔یہ ایک اور ثبوت ہے کہ آپ کا حافظہ سن وسال کے متعلق اچھا نہ تھا اور اس بیان کی عدم صحت ذیل کے خلاصہ سے ظاہر ہے۔(الف) ۱۸۹۲ء میں رمضان شریف میں آپ نے دیو بند جاتے ہوئے حضور سے ملاقات کی ایک سال وہاں تعلیم پائی اور دو سال سہارنپور میں بطور مدرس قیام کیا۔پھر کچھ عرصہ والد صاحب کو قرآن مجید پڑھایا پھر