اصحاب احمد (جلد 5) — Page 125
۱۲۹ سیرت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب تاریخنہائے بیعت و ہجرت و تقرری بطور مدرس حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء سے قبل کے عرصہ میں بیعت کی تھی اور اپریل یا مئی ۱۹۰۱ ء میں ہجرت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت سے ایک خانگی کام کے سرانجام دینے کے لئے آپ کو کشمیر جانا پڑا۔جہاں سے آپ چھ ماہ بعد مراجعت فرما ہوئے کہیں سيرة سرور حصہ اوّل (اصحاب احمد جلد پنجم حصہ اوّل) میں خاکسار حضرت مولوی صاحب کی بیعت و ہجرت و شادی کی تاریخوں اور عمر کی تعین نہیں کر سکا تھا۔اب قرائن قطعیہ پیش کرنے کے قابل ہوا ہوں۔انسانی دماغ کی بناوٹ عجیب قسم کی ہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جیسے ذہین اور ذکی اپنے متعلق بیان کرتے ہیں کہ روزانہ بہتیں دفعہ پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ کی تلاوت میں بھی بعض دفعہ مجھے نسیان ہو جاتا ہے۔مجلس احرار کے لیڈر چوہدری افضل حق صاحب نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ اسمبلی کے انتخابات کے لئے فارم پُر کرتے وقت میں خود اپنا نام بھول گیا اور سخت پریشان تھا کہ اتنے میں کسی نے آ کر مجھے نام لے کر پکارا تو جان میں جان آئی اور فارم پُر کر سکا۔حضرت مولوی صاحب کا حافظہ نہایت اعلیٰ تھا۔لیکن سنین کے متعلق کمزور تھا۔چنانچہ اپنی بیعت و ہجرت کی تاریخیں ایک اشتہار شائع کرنے اور تقرری بطور مدرس اور عرصہ ء ملازمت پشاور اور عرصہ عمر کے متعلق آپ کو ذہول ہوا ہے۔اس ذہول کو مد نظر رکھنے کے علاوہ ہمیں یہ بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ ایسے ذہول والے افراد کی بیان کردہ ہر تاریخ محل اشتباه ونسیان بھی نہیں ہوتی۔سو اس بارہ میں قدم پھونک پھونک کر رکھنا ضروری ہے تا کہ آپ کی بیان کردہ ایسی تاریخوں کو ہم صحیح قرار دیں۔جن کو دیگر قرائن قویہ قطعیہ کی تائید حاصل ہو۔حاشیہ ھذا میں بغیر حوالہ کے جو صفحات درج کئے گئے ہیں۔وہ اصحاب احمد جلد پنجم حصہ اول میں مندرج آپ کے بیان سے متعلق ہیں۔تاریخ بیعت: - ایبٹ آباد میں اعلانِ بیعت پر آپ کی شدید مخالفت ہوئی اور آپ اگلے روز ہی پشاور