اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 90 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 90

جشن دو فانی انسانوں۔یعنے مرد و عورت کے ملنے پر منایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ ملنا عارضی ہوتا ہے اور اس وقت کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ جوڑا خوشی کا باعث بنے گا یا کہ غم کا۔اچھے نتائج پیدا کرے گا یا کہ خراب۔خدا کی رحمت کا پیش خیمہ ہوگا۔کہ عذاب کا۔وہاں اس کے مقابل پر اس عظیم الشان جشن کا کیا کہنا ہے کہ جس میں ایک پاک روح یا ایک پاک شدہ روح اپنے ازلی ابدی خدا اپنے رحیم و ودود آقا۔ہاں پیار کرنے والوں اور سب پیار کئے جانے والوں سے زیادہ پیارے اور زیادہ پیار کرنے والے محب ومحبوب سے ملنے کے لئے نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمیشہ کی راحت میں ہم آغوش ہو جانے کے لئے موت کے دروازے سے گزرتی ہے۔پاک انجام پانے والے شخص کے لئے موت یقیناً ایک عظیم الشان عروسی جشن ہے اور کہنے والے نے بالکل سچ کہا ہے کہ ؎ عروسی بود نوبت ما تمت اگر برنکوئی شود خاتمت عجیب و غریب منظر یہ شعر منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کی تدفین کے وقت میرے کانوں میں قریباً چاروں طرف سے پہنچا۔اور میرے دل نے کہا سچ ہے کہ موت ایک عجیب و غریب پردہ ہے جس کے ایک طرف جدا ہونے والے کے دوست اور اعز ہ اپنے فوت ہونے والے عزیز کی عارضی جدائی پر غم کے آنسو بہاتے ہیں۔اور دوسری طرف پہلے گزرے ہوئے پاک لوگ اور خدا کے مقدس فرشتے بلکہ خود خدائے قدوس آنے والی روح کی خوشی میں ایک عروسی جشن کا نظارہ دیکھتے ہیں۔اللہ اللہ یہ ایک کیسا عجیب منظر ہے کہ ایک طرف صف ماتم ہے اور دوسری طرف جشن شادی۔اور درمیان میں ایک