اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 89 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 89

۸۹ پاسکیں یعنی جس طرح وہ زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے قریب تھے اسی طرح موت کے بعد بھی قریب رہیں اور یہ اُن کا ایک ادنی ساحق ہے جو جماعت کی طرف سے اس رنگ میں ادا کیا جاتا ہے۔ورنہ مقبرہ بہشتی کا حصہ ہونے کے لحاظ سے مقبرہ کی ساری زمین ایک ہی حکم میں ہے۔اور کوئی امتیاز نہیں ) موت میں جشن شادی کا رنگ وفن کے وقت جس کے لئے گیس کی روشنی کا انتظام تھا۔میں نے اکثر لوگوں کی زبان سے یہ شعر سنا اور واقعی اس موقعہ کے لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ شعر تھا کہ عروسی بود نوبت اگر برنکوئی شود ما تمت خاتمت یعنی اگر تیری وفات نیکی اور تقویٰ پر ہوتی ہے۔تو پھر یہ وفات ماتم کا رنگ نہیں رکھتی۔بلکہ گویا ایک جشن شادی کا رنگ رکھتی ہے۔یہ ایک نہایت عمدہ شعر ہے اور نہایت عمدہ موقعہ پر لوگوں کی زبان پر آیا۔اور مجھے اس شعر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کا وہ مبارک فرمان یاد آ گیا۔جو آپ نے حضرت سعد بن معاذ رئیس انصار کی وفات پر ارشاد فرمایا تھا۔اور وہ یہ کہ: اهتز عرش الرحمن المَوْتِ سعد یعنی سعد کی موت پر تو خدائے رحمن کا عرش بھی جھومنے لگا۔واقعی خواہ دنیا کے لوگ سمجھیں یا نہ سمجھیں۔مگر حقیقت یہی ہے کہ جس شخص کا انجام اچھا ہو گیا۔اور اس پر ایسے وقت میں موت آئی کہ جب خدا اس پر راضی تھا۔اور وہ خدا پر راضی تھا۔تو اس کی موت حقیقہ ایک جشن شادی ہے۔بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر۔کیونکہ جہاں شادی کا