اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 91 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 91

۹۱ اڑتی ہوئی انسانی زندگی کے آخری سانس کا پھڑ پھڑا تا ہوا پردہ۔گویا مرنے والے کے ایک کان میں رونے کی آواز پہنچ رہی ہوتی ہے۔اور دوسرے کان میں خوشی کے ترانے۔اور وہ اس عجیب وغریب مرگب ماحول میں گھرا ہوا اگلے جہان میں قدم رکھتا ہے۔مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ اصل جذ بہ وہی ہے جو ملاء اعلیٰ میں پایا جاتا ہے۔جسے شاعر نے جشن شادی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔کیونکہ وہ انسان کی زندگی کے آغاز کا اعلان ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ گو خدا نے سارے انسانوں کو ہی اس مبارک جشن کی دعوت دی ہے اور اس بابرکت تحفہ کو ہر روح کے سامنے محبت اور رحمت کے ہاتھوں سے پیش کیا ہے۔مگر بہت کم لوگ اسے قبول کرتے ہیں۔اور اکثر نے اپنے لئے یہی بات پسند کی ہے کہ جب وہ اس دنیا سے جدا ہو کر اگلے جہان میں قدم رکھیں تو انکے لئے یہ جہان اور اگلا جہان دونو ماتم کدہ بن جائیں۔خدایا تو ایسا فضل فرما کہ ہم اور ہمارے وہ سب عزیز جن کے ساتھ ہمیں محبت ہے۔اور وہ سب لوگ جنہیں ہمارے ساتھ محبت ہے۔یعنی تیرے وہ سارے بندے جو احمدیت کی پاک لڑی میں محبت اور اخلاص کیساتھ پروئے ہوئے ہیں ان کی زندگیاں تیری رضا کے ماتحت گزریں اور اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہو تو اسے ہمارے رحیم و مہربان آقا تو اس وقت تک ان سے موت کو روکے رکھ۔جب تک کہ تیری قدرت کا طلسمی ہاتھ انہیں ان کے گنا ہوں سے پاک و صاف کر کے تیرے قدموں میں حاضر ہونے کے قابل بنادے تا کہ ان کی موت عروسی جشن والی موت ہو۔اور وہ تیرے دربار میں اپنے گناہوں سے دھل کر اور پاک وصاف ہو کر پہنچیں۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔ہاں تجھے تیری اس عظیم الشان رحمت کی قسم ہے جو تیرے پاک مسیح کی بعثت کی محرک ہوئی ہے کہ تو ایسا ہی کر۔آمین یا رب العالمین۔