اصحاب احمد (جلد 4) — Page 66
۶۶۔غذا کا حکم پیدا کر لیتی ہیں۔سو حالت قبض جو بے ذوقی اور بے مزگی۔مراد ہے یہی ایک ایسی مبارک حالت ہے جس کی برکت سے سلسلہ ترقیات کا شروع رہتا ہے۔ہاں بے مزگی کی حالت میں اعمال صالحہ کا بجالانا نفس پر نہایت گراں ہوتا ہے۔مگر ادنی خیال سے اس گرانی کو انسان اٹھا سکتا ہے۔جیسے ایک مزدور خوب جانتا ہے کہ اگر میں نے آج مشقت اٹھا کر مزدوری نہ کی تو پھر رات کو فاقہ ہے اور ایک نوکر یقین رکھتا ہے کہ میں نے تکالیف سے ڈر کر نوکری چھوڑ دی تو پھر گزارہ ہونا مشکل ہے۔اسی طرح انسان سمجھ سکتا ہے کہ فلاح آخرت بجز اعمال صالحہ کے نہیں۔اور اعمال صالحہ وہ ہوں جو خلاف نفس اور مشقت سے ادا کئے جائیں۔اور عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل سے جس کام کیلئے مصم عزم کیا جاوے۔اس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔سو مصمم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے۔اور نماز میں اس دعا کو پڑھنے میں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم الخ بہت خشوع اور خضوع سے زور لگانا چاہیئے اور بار بار پڑھنا چاہیئے۔انسان بغیر عبادت کچھ چیز نہیں۔بلکہ جانوروں سے بدتر ہے اور شر البریہ ہے۔وقت گزر جاتا ہے۔اور موت در پیش ہے اور جو کچھ عمر کا حصہ ضائع طور پر گزر گیا وہ نا قابل تلافی ہے اور سخت حسرت کا مقام ہے۔دعا کرتے رہو اور تھکو مت۔لا تيسئوا من روح الله - یہ عاجز آپ کے لیے دعا کرتے رہے گا انشاء اللہ تعالی۔ہر ایک بات کے لیے ایک وقت ہے۔صابر اور منتظر رہنا چاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ صبر میں کچھ فرق آجاوے۔کیونکہ استعجال سم قاتل ہے۔اگر فرصت ہو تو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہیئے۔غور سے ترجمہ قرآن شریف کا دیکھا کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپ نے خواب میں دیکھا ہے۔یہ بہتر ہے۔فاروق کی زیارت سے قوت و شجاعت دین حاصل ہوتی ہے۔میری دانست میں فقر