اصحاب احمد (جلد 4) — Page 67
۶۷ کے یہ معنے ہیں کہ اعمال کی ضرورت ہے نہ نسب کی۔یہ پوچھا جائے گا کہ کیا کام کیا۔یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس کا بیٹا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے مناسبت و پیروی و محبت اور پھر کثرت درود شریف شرط ہے۔یہ باتیں باالعرض حاصل ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے راضی ہو جانے کے بعد اور با آسانی یہ امور طے ہو جاتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۱ مئی ۱۸۸۹ء نوٹ : اس مکتوب میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی ایک رویا کا ذکر بھی حضرت نے فرمایا ہے۔جس میں انہوں نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا اور حضرت نے اس کی تعبیر عام بھی فرما دی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ حقیقی تعبیر ہے۔لیکن میں اپنے ذوق پر اس کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں حضرت منشی صاحب کو قبل از وقت بشارت دی تھی کہ وہ اس عصر سعادت کے فاروق فضل عمر کو دیکھ لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ایک یہ بھی ہے کہ: فیک مادة فاروقيه اس میں کیا شبہ ہے کہ حضرت بجائے خود بھی فاروق ہی تھے۔لیکن اس وحی میں یہ ہے کہ تجھ میں فاروقی مادہ ہے اور اس کا ظہور آپ کی صلبی اولاد میں سے ایک اولوالعزم مولود کے ذریعہ ہونے والا تھا۔جو زبان وحی میں فضل عمر کہلایا۔بہر حال حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ وہ اس عہد کے فاروق کو دیکھیں گے۔اور یہ خواب اسی سال کا ہے۔جب کہ وہ مولود ومبشر موعود عالم وجود میں آچکا تھا۔یعنی ۱۸۸۹ء۔پس میرے ذوق میں اس خواب کی تعبیر واقعات کے رنگ میں بھی نمایاں ہے۔اور میں