اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 65 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 65

شوق اس خاندان میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ خود حضرت منشی صاحب کے والد صاحب، دادا صاحب، پردادا صاحب، سب حافظ قرآن تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت منشی صاحب کو قرآن مجید کے حقائق و معارف کے ایک چشمہ جاریہ پر لا کر کھڑا کر دیا۔اور وہ سیراب ہو گئے۔اور دوسروں کو سیراب کرتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے۔اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت ان کے ایمان کا جز و اعظم تھا۔بزرگان ملت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کبار آپ کے ساتھ محبت رکھتے تھے۔جو دراصل خود ان کی اس محبت کا عکس تھا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم از عاجز عایذ با اللہ الصمد غلام احمد با خویم مکرم منشی ظفر احمد صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، عنایت نامہ آپ کا پہنچا۔حرف حرف اس کا پڑھا گیا۔اور آپ کیلئے دعا کی گئی۔د قبض اور بے مزگی اور بے ذوقی کی حالت میں مجاہدات شاقہ بجالا کر اپنے مولا کو خوش کرنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ مجاہدہ جس کے حصول کے لئے قرآن مجید میں ارشاد و ترغیب ہے اور جو مورد کشود کار ہے وہ مشروط بے ذوقی و بے حضوری ہے اور اگر کوئی عمل ذوق اور بسط اور حضور اور لذت سے کیا جائے اس کو مجاہدہ نہیں کہہ سکتے اور نہ اس پر کوئی ثواب مترتب ہوتا ہے کیونکہ وہ خود ایک لذت اور نعیم ہے۔اور تم اور تلذذ کے کاموں سے کوئی شخص مستحق اجر نہیں ہو سکتا۔ایک شخص شیریں شربت پی کر اس کے پینے کی مزدوری نہیں مانگ سکتا۔سو یہ ایک نکتہ نہایت باریک ہے کہ بے ذوقی اور بے مرگی تلخی اور مشقت کے ختم ہونے سے وہیں ثواب اور اجر ختم ہو جاتا ہے اور عبادات عبادات نہیں رہتیں۔بلکہ ایک روحانی