اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 185 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 185

۱۸۵ عبدالکریم صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔وہ گوشت چاقو سے بمشکل کتا تھا۔بڑی مشکل سے تھوڑا سا ٹکڑا کاٹ کر اس نے حضرت صاحب کو دیا۔آپ نے منہ میں ڈال لیا اور چبانے کی کوشش فرماتے رہے مگر وہ چبایا نہ جا سکا مگر اس باورچی کی تعریف فرمائی کہ آپ نے بہت عمدہ پکا یا۔میں نے کہا یہ نہ تو کاٹا جاتا ہے۔نہ چبایا جاتا ہے۔گھی بھی ضائع کر دیا۔فرمانے لگے۔منشی صاحب آپ کو علم نہیں۔انگریز ایسا ہی کھاتے ہیں۔اور ان کے نقطہ خیال سے بہت اعلیٰ درجہ کا پکا ہوا ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ہننے لگے۔انہوں نے بھی کہا کہ یہ ٹھیک نہیں پکایا۔فرمانے لگے نہیں نہیں آپ نہیں جانتے۔پھر اس باورچی سے فرمایا کہ آپ کوئی اور چیز مہمانوں کے لئے تیار کریں۔باور چی موجود ہیں ان کو آپ بتلاتے جائیں۔اس نے تو شرم کے مارے کوئی چیز تیار نہ کروائی۔اور کوئی اور صاحب تھے۔جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔انہوں نے بریانی مہمانوں کے لئے پکوائی۔اور سب نے محظوظ ہو کر کھائی۔حضرت صاحب کی خدمت میں بھی پہنچائی گئی۔آپ نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اور مجھے بلوایا اور فرمایا دیکھو کیسی عمدہ پکوائی ہے۔وہ انگریزی قسم کا کھانا تھا جس سے آپ واقف نہ تھے۔یہ دیسی قسم کا کھانا کیسا عمدہ ہے۔حضرت صاحب نے یہی سمجھا کہ یہ اسی باورچی نے پکائی ہے۔پھر ہم دونوں نے ظاہر نہ کیا کہ اس نے نہیں پکوائی۔غرض کوئی ناقص شے بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتا تو آپ اس کی تعریف فرماتے۔۸۳۔ایک دفعہ آپ بیت اقصیٰ سے ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے تھے۔پیچھے سے میراں بخش جو مخبوط الحواس تھا آرہا تھا۔اس نے آواز دی۔او غلام احمد “ آپ اسی وقت کھڑے ہو گئے۔اور فرمایا جی ہی راوی اتنا کہہ کر بے اختیار چشم پر آب ہو گیا۔اور روایت کے باقی الفاظ بمشکل ادا کئے اور کہا کہ حضور کے ایسے اخلاق عالیہ تھے۔محمد احمد