اصحاب احمد (جلد 4) — Page 186
۱۸۶ اس نے کہا اوسلام تے آکھیا کر آپ نے فرمایا السلام علیکم۔اس نے کہا معاملہ ادا کر جیب میں سے رومال نکال کر جس میں چونی یا اٹھنی بندھی ہوئی تھی۔آپ نے کھول کر اسے دے دی۔وہ خوش ہوکر گھوڑیاں گانے لگا۔۸۴۔حضور نے فرمایا۔ایک دفعہ میراں بخش زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔گول کمرے کے آگے ایک ہندو مست بڑا موٹا ڈنڈا لئے آیا۔میراں بخش اسے کہنے لگا کہ پڑھ کلمہ۔اور اس کے ہاتھ میں سے ڈنڈا لے کر مارا کہ پڑھ کلمہ لا الہ الا اللہ۔اس نے جس طرح میراں بخش نے کہلوایا کہا۔تو اس کو میراں بخش نے ایک دونی دے دی۔فرمایا کہ میں بہت خوش ہوا کہ ایک مسلمان پاگل نے ایک ہندو پاگل کو مسلمان کرلیا۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغی مادہ ضرور ہے۔۸۵۔یہی میراں بخش ایک دفعہ مسجد اقصیٰ کے قریب مندر پر نہ معلوم کس طرح جا چڑھا اور اذانیں دینے لگا۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر اور گالیاں دے کر کہتا تہانوں بانگاں نال مسلمان کرنا ہے ( تمہیں اذان سے مسلمان بنانا ہے ) ہندو لاٹھیاں لے کر اکٹھے ہو گئے۔اوپر تو چڑھ نہ سکتے تھے۔مرزا نظام الدین صاحب جن کا رعب داب بہت تھا آئے اور ہندوؤں کو آ کر برا بھلا کہا کہ وہ تو پاگل ہے تم بھی پاگل ہو گئے ہو۔پھر وہ اتر آیا۔جمعہ کا دن تھا۔جب جماعت اور قرآت شروع ہوگئی تو جماعت کو چیرتا ہوا سیرت المہدی جلد ۳ نمبر ۸۰۵ میں حضرت منشی صاحب کی روایت ہذا بواسطه حضرت مولوی شیر علی صاحب درج کر کے ذیل کا نوٹ دیا گیا ہے: ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ میراں بخش قادیان کا ایک باشندہ تھا اور پاگل ہو گیا تھا۔بوڑھا آدمی تھا اور قادیان کی گلیوں میں اذانیں دیتا پھرتا تھا، میں نے اسے بچپن میں دیکھا ہے وہ بعض اوقات خیال کرتا تھا کہ میں بادشاہ ہوں اور مجھے لوگوں سے معاملہ وصولی کا حق ہے۔‘‘ ( مولف اصحاب احمد )